1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نیپال کے ریڈیو شو میں ممنوعہ موضوعات

10 ستمبر 2010

یہ ریڈیو شو اُس منصوبے کا حصہ ہے، جو کھٹمنڈو میں نو سال پہلے اقوام متحدہ کے بہبود اطفال کے ادارے 'UNICEF' نے نیپالی نوجوانوں میں HIV اور ایڈز کے خطرے کے بارے میں آگاہی پھیلانے کےلئے تیار کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/P9S9
نیپال کے وزیر ِاعظم مادہو کمارتصویر: AP

'ساتھی سنگا منکا کورا' یعنی اپنے بہترین دوست کے ساتھ چیٹنگ نامی اِس شو میں بحث بھی ہے، ڈرامہ بھی اور موسیقی بھی۔ یہ پروگرام تازہ ہوا کے ایک جھونکے کی مانند تھا کیونکہ اس سے پہلے نیپال جیسے قدامت پسند ہندو اکثریت والے ملک میں نوجوانوں کے درمیان جنسی تعلقات اور منشیات کے استعمال جیسے موضوعات پر بات کرنے کو نہایت برا سمجھا جاتا تھا۔

ابتدا میں اس پروگرام کا دورانیہ تیس منٹ ہوا کرتا تھا اور اس میں نوجوانوں کے مسائل پر دوستانہ ماحول میں بات چیت اور بحث کی جاتی تھی۔ یہ پروگرام سننے والوں میں بہت جلد مقبول ہو گیا اور چند ہی مہینوں میں اس پروگرام میں اتنی بڑی تعداد میں خطوط آنا شروع ہوگئے کہ اس کا وقت بڑھا کر ایک گھنٹہ کر دیا گیا۔

اس پروگرام کے ایک سابق میزبان کوسٹو پوکھرل کا کہنا ہے، ’اس پروگرام سے پہلے نیپال میں ان مسائل پر بات کرنے کا رواج ہی نہیں تھا، اس پروگرام کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ سنے والوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنے کسی دوست سےنہایت ہی غیر رسمی ماحول میں اپنے مسائل کے بارے میں بات کر رہے ہیں'۔

Schauspieler Orlando Bloom
ہالی وڈ کے اداکار اور یونیسیف کے خیر سگالی کے سفیر Orlando Bloomتصویر: picture alliance / dpa

پروگرام 'ساتھی سنگا منکا کورا' کے میزبان نوجوانوں سے متعلق ہر قسم کے موضوعات پر بات کرتے ہیں، یہی وجہ ہےکہ آج کل اس پروگرام کو ایک ہفتے کے دوران چھ ملین سے زائد افراد سنتے ہیں۔ اس پروگرام کو اس کی شہرت کی وجہ سے کئی اعزازت سے بھی نوازا گیا ہے اور اس پروگرام میں ہالی وڈ کی مشہور فلم

'Pirates Of The Carribean'کے اداکار اور اقوام متحدہ کے بہبود اطفال کے ادارے یونیسیف کے خیر سگالی کے سفیر Orlando Bloom بھی شرکت کر چکے ہیں۔

نیپال میں'UNICEF'کے نمائندے گیلیان میلسوپ کا کہنا ہے کہ میڈیا میں اس پروگرام سے پہلے نوجوانوں کو درپیش مسائل پر بات ہی نہیں کی جاتی تھی اور نوجوان خود کو نظر انداز کیا گیا محسوس کرتے تھے۔ ایسے میں اِن مسائل سے دوچار نوجوانوں کو کسی بھی طرح کی رہنمائی نہیں مل پاتی تھی اور اُن کے مسائل کی شدت میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا۔

اس پروگرام کو اس میں شامل موضوعات کی وجہ سے اکثر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور ایک دفعہ اس کو تقریباﹰ بند کئے جانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا ۔

Maoist Rebellen in Nepal
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں اور حکومت کے درمیان دس سالہ خانہ جنگی نے نوجوانوں کو بہت نقصان پہنچا یاتصویر: AP

پروگرام کے ’فارمیٹ‘ میں تو پچھلے دو سالوں کے دوران کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی مگر اس کے موضوعات میں بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ تبدیلی ضرور آئی ہے۔ نوجوان نسل کو نیپال کی دس سالہ خانہ جنگی سے بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ کوسٹو پوکھرل کا کہنا ہے، ’پروگرام شروع ہونے کے چند سال بعد ہمیں ایسے خطوط موصول ہونا شروع ہوئے، جن میں کہا گیا تھا کہ ملک اس قدر برے حالات سے گزر رہا ہے اور آپ لوگ ان چھوٹے چھوٹے مسائل پر ہی بات چیت کئے جا رہے ہیں۔ خط لکھنے والوں میں وہ نوجوان بھی تھے، جو ماؤ نواز باغیوں سے جا ملے تھے اور اب اُنہیں چھوڑنے سے ڈر رہے تھے یا پھر وہ لڑکیاں تھیں، جو کہ باغیوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوئیں اور معاشرے کے ڈر سے اِس حقیقت کو چھپانا چاہتی تھیں‘۔

اس پروگرام میں ہر مہینے پندرہ سو سے دو ہزار کی تعداد میں خطوط موصول ہوتے تھے، جن میں سے زیادہ تر خطوط نیپال کےدیہی علاقوں سے آتے تھے مگر اب موبائل فون آنے سے یہ سب کچھ بدل گیا ہے اور لوگوں نے موبائل کے ذریعے پیغامات بھیجنا شروع کر دئے ہیں۔ اس پروگرام کو تیار کرنے والی کمپنی نیپال میں اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کو کمبوڈیا، لاؤس اور یمن میں بھی متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت: امجد علی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں