1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نیٹو سربراہ اجلاس اختتام پذیر : پاکستان افغانستان بارے سٹرٹیجی میں اتفاق رائے

4 اپریل 2009

نیٹو اتحاد کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر رکن ملکوں کے سربراہان کا اجلاس اپنی منزل کو پہنچ گیا ہے۔ نئے سیکریٹری جنرل کے نام کے علاوہ پاکستان اور افغانستان بارے حکمت عملی پر امریکہ اور نیٹو اتحاد میں اتفاق رائے پایا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/HPnB
نیٹو سربراہ اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر اوباما کا الوداعتصویر: AP

نیٹو اتحاد کے سریراہان نے اکیسویں صدی کے لئے نئی سٹرٹیجی پر عمل درامد کا فیصلہ کیا ہے۔ نیٹو اتحاد کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر جرمنی اور فرانس کے شہروں میں منعقد ہونے والا دو روزہ سربراہی اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ اختتامِ اجلاس امریکی صدر باراک اوبامہ افغانستان اور پاکستان سے متعلق نئی حکمت عملی پر نیٹو کے تمام ممران کے ساتھ اتفاق رائے کا اعلان کیا۔ ايہوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو کے ممبر ملک سفارٹی تعلُقات میں بہتری اور تیزی کے ذریعے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنانے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون اور اشتراکِ عمل کا مظاہرہ کریں گے کیونکہ پاکستان کو اُس کی سرحدوں سے القائدہ عناصر کے ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے قابل بنانا ہو گا۔ اوبامہ کے مطابق پاکستان میں پائی جانے والی دہشت گردی تمام خطے کے ساتھ امریکہ اور یورپ، سب کے لئے یکساں خطوات کا باعث ہے۔ اوبامہ نے پاکستان کو دی جانے والی امداد مثبت نتائج سے منسلک کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اِس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ مغربی اتحاد نیٹو، افغانستان میں مزید پانچ ہزار فوجیوں اور تربیت کنندگان کو تعینات کر ےگا۔

دو دنوں کی بحث و تمحیث کے بعد نیٹو سربراہ اجلاس میں نئے سیکریٹری جنرل کے نام پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم اندرس فوگ راس موسین کو نیا سیکریٹری جنرل نامزد کیا گیا ہے۔ پہلے ترکی اُن کی مخالفت کر رہا تھا۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوہان کے مطابق امریکی صدر کی ضمانت پر ترکی نے ڈنمارک کے وزیر اعظم کی نامزدگی کی مخالفت سے دستبرداری کی۔

نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران کئی معاملات پر غور و خوص کیا گیا۔

Nato Konferenz Abschlusstag
صدر اوباما اپنی اہلیہ کے ہمراہ شٹراس برگ میںتصویر: AP

ہفتہ کی صبح،نیٹو مشنوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموش اختیار کی گئی۔ نیٹو اتحاد کے سالگرہ کی تقریبات کے حوالے سے جرمن چانسلر اینگلا میرکل ،امریکی صدر باراک اوباما اور دوسرے لیڈران پیدل دریائے رائن کے پار، یورپ پل کو پار کر کے گئے۔ بیچ پل پر اُن کا استقبال فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے کیا۔ اس پل پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے سارکوزی سے مصافحہ کیا۔ اِس موقع پر امریکی صدر اوباما کے علاوہ پچیس دوسرے سربراہان ممکت اور حکومت نے فرانس اور جرمن سرحدوں کو ملانے والے اس پل پر اکھٹا ہو کر معغربی اتحاد کی تجدیدِ یک جہتی کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں لیڈران نیٹو کونسل کی میٹنگ میں شریک ہو گئے۔

فرانسیسی شہر سٹراس برگ میں آج مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ سربراہ اجلاس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل ژاپ ڈے ہوپ سخیفر نے نیٹو سربراہان کو مبارک پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساٹھ سال قبل چار اپریل کو نیٹو معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، اُس وقت نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی سے یہ توقعات وابستہ کی گئی تھیں کہ یہ امریکہ اور یورپ کے درمیان مضبوط دوستی کو مسلسل بنیادوں پر استور کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

Obama Merkel Baden-Baden
بادن بادن شہر کے سِٹی ہال میں جرمن چانسلر اینگلا میرکل اور امریکی صدر اوباما، صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے۔تصویر: AP

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ آج ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ امیدیں پوری ہوئیں ہیں۔

نیٹو اجلاس میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اِن لمحات کو اکیسویں صدی میں مغربی اتحاد کوجن چیلنجز کا سامنا ہے، اُن سے نمٹنے کے ضمن میں سبق آموز قرار دیا۔ میرکل نے مزید کہا کہ

Anders Fogh Rasmussen neuer NATO Generalsekretär
ڈنمارک کے وزیر اعظم، نیٹر کے نئے سیکریٹری جنرل نامزد ( درمین )، فرانسیسی صدر بھی نمایاں ہیں۔تصویر: AP

افغانستان کے مسلے کا حل ہمارا امتحان ہے، ہمیں افغانستان کی مدد کر کے اسے اِس قابل بنانا ہوگا کہ وہ خود اپنا دفاع کر سکے اور اقغانستان کی سرزمین سے ہر طرح کی دہشت گردی کے امکانات ختم کردے۔ اِس ضمن جرمن افغانستان کی مدد کے لئے تیار ہے۔ ہم نے اپنے فرائض پورےکئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ افغانستان میں فوجی تعیناتی کا معاملہ ہو یا افغان پولیس کی تربیت کا، یا پھر سول تعمیر نو کا، ان سب کاموں میں جرمنی اپنی سر گرمیاں جاری رکھے گا۔

امریکہ صدر اوباما نے نیٹو کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر اس اتحاد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی بھی اپنے اتحاد میں نئے اراکین کو شامل کر رہے ہیں۔ کروشیا اور البانیہ نے نیٹو میں شمولیت اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اِس اتحاد کا بھر پور ساتھ دینے کا مظاہرہ کیا ہے، البانیہ نے ایک سو چالیس اورکروشیا نے دو سو چھیانوے فوجیوں کو افغانستان میں متعین کر کے بھر پور تعاون مکا اظہار کیا ہے۔

نیٹو کی ملٹری کمانڈ میں دوبارہ شمولیت کے بعد مغربی اتحاد کی جانب سے غیر معمولی پذیرئی حاصل کر نے والے ملک فرانس کے صدر نکولا سارکوزی کہا ہے کہ افغانستان کا مسلہ اِس وقت عالمی برادری کے لئےچیلنج ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد اِس سے نمٹنے اور افغانستان کو بہتر مستقبل دینے کے لئے تمام تر توجہ افغانستان پر مرکوز کرے گا۔

جمعہ کو اوباما نےنیٹو کے اجلاس کے موقع پر شٹراس برگ کے ٹاؤن ہال میں ایک طویل خطاب کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ دنیا کو پر امن بنانے کے لئے امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔

’’ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور نیوکلیائی ٹیکنالوجی کی چوری سے دنیا کے تمام شہروں کو خطرات لاحق ہیں اس ویک اینڈ پر پراگ میں ہونے والے اجلاس میں میرا ایجنڈا دنیا کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے پاک کرنا ہو گا۔‘‘

امریکی صدر نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے اندر فرانس کے کردار کو ایک ایسے وقت میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے جب ابھی چند روز قبل ہی پیرس حکومت نے نیٹو کی فوجی کمان میں دوبارہ سے کلیدی کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

شٹراس برگ کے ٹاؤن ہال میں خطاب میں اوباما نے کہا کہ ماضی میں امریکا کا یورپ کے ساتھ رویہ نامناسب اور تکبرانہ رہا ہے جس کے سبب یورپ میں امریکہ مخالف جذبات نے جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رویے میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ نئے امریکی صدر نے یورپی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ان کا یورپ کےاس دورے کا مقصد امریکہ اور یورپ کے مابین دوستانہ تعلقات کو ازسرنو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقن مل کر اپنے مشترکہ مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔

Nato-Gipfel in Baden-Baden
نیٹو سربراہ اجلاستصویر: AP

روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ روس کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہے تاہم اس کا طریقہ کار ماضی سے مختلف ہونا چاہئے۔ اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس کے مابین بہت سے امور پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے تاہم چند مسائل کے بارے میں طرفین میں اخلافات ہیں۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کا کہنا ہے کہ نئے امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ کام کرنے میں انہیں بہت لطف آ رہا ہے کیوں کہ اوباما کی سوچ محض امریکہ کے مفاد اور مسائل تک محدود نہیں ہے نہ ہی وہ تمام امور کو صرف اور صرف امریکی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

دریں اثنا نیٹو کے جنرل سیکریٹری یاپ دے ہوپ شیفر نے کہا ہے کہ افغانستان میں چند نئے متنازعہ قوانین بنائے گئے ہیں جنہیں یورپی برادری انسانی حقوق کی پامالی سمجھتی ہے اس کے سبب یورپی ممالک افغانستان میں اپنی مزید فوج کی تعیناتی کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ شیفر کا اشارہ افغانستان کی پارلیمان میں حال ہی میں پیش کئے جانے والے خواتین سے متعلق ان قوانین کی طرف ہے جن میں اہل تشیع عورتوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔