1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نو اکتوبر 1989ء: جرمن اتحاد کا پہلا سنگ میل

الکسزانڈر کوڈاشیف/ کشور مصطفیٰ6 نومبر 2014

9 اکتوبر 1989ء جرمنی اور یورپ کی آزادی کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے اور اپنی نوعیت کا پہلا سنگ میل بھی۔ پیر کا دن تھا جس روز مشرقی جرمن شہر لائپزگ میں 70 ہزار شہری کمیونسٹ حکومت کے خلاف مظاہروں کے لیے جمع ہوئے تھے۔

https://p.dw.com/p/1DiBL
Grenzöffnung Berliner Mauer 1989
تصویر: picture-alliance/dpa

ان مظاہروں کا مقصد جرمن ڈیموکریٹک رپپبلک یا GDR کی اُس وقت کی حکمران جماعت، سوشلسٹ یونٹی پارٹی SED کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ تمام مظاہرین مل کر کمیونسٹ حکمرانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، ’’قوم تو ہم ہیں۔‘‘ معاشرے کی نچلی ترین سطح سے شروع ہونے والا یہ عوامی مظاہرہ ان حکمرانوں کے خلاف تھا جو اعلیٰ ترین سیاسی اداروں یعنی پارٹی کے پولٹ بیورو اور مرکزی کمیٹی کے رکن تھے لیکن یہ جانتے ہی نہیں تھے کہ عوام کیا چاہتے ہیں: ’’آزادی۔‘‘ زندگی کی آزادی، معاشرے میں آزادی، سفری آزادی اور سب سے بڑھ کر دوسرے ملکوں کے سفر کی آزادی۔

یہ مظاہرین ہر پیر کو محض لائپزگ ہی میں احتجاج نہیں کرتے تھے بلکہ یہ سلسلہ قریبی شہروں، مثال کے طور پر ہالے، زالے اور آئزن ہُوٹن اشٹڈ میں بھی پھیل گیا۔ مایوسی اور پژمردگی کے شکار ہزاروں جرمن باشندے جی ڈی آر کے نظام اور حکومتی سختیوں سے نالاں ہو کر سڑکوں پر نکلتے اور احتجاج کیا کرتے تھے۔ یہ جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک جی ڈی آر کے اندر اور اس کے باہر ہونے والے پیدل مظاہرے تھے۔

Flash-Galerie Revolution in Osteuropa 1989 Bild 14 DDR Montagsdemonstration Leipzig
1989ء میں مشرقی یورپ میں آنے والا انقلابتصویر: picture alliance / dpa

جرمنی کی آزادی کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھنے والا دن 9 اکتوبر 1989ء اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دن سے ہزاروں جرمن باشندوں کی طرف سے شروع کردہ احتجاجی سلسلہ وسیع پیمانے پر پھیلنے کے بعد محض چار ہفتوں کے اندر اندر ایک پُر امن بغاوت کی شکل اختیار کر گیا تھا اور پھر بالآخر 9 نومبر 1989ء کو دیوار برلن کے گرائے جانے تک یہ مشرقی جرمن باشندے یورپی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر چُکے تھے۔

یہی وہ دن ہے جب مشرقی جرمن باشندے قطار در قطار کھڑے نہ صرف جی ڈی آر کی سوشلسٹ یونٹی پارٹی کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے بلکہ وسطی اور مشرقی یورپ میں کمیونزم کے خلاف سب سے آگے بڑھ کر اُس جدوجہد کا ہراول دستہ بن گئے تھے، جو پورے خطے میں ماسکو کی اجارہ داری کے خلاف بغاوت کا ذریعہ بنی۔

1980ء کے عشرے میں پولینڈ میں آزاد ٹریڈ یونین کی طرف سے شروع کردہ ہڑتالی مہم دراصل 1989ء میں مشرقی یورپ میں آنے والے سیاسی انقلاب کا سبب بنی تھی۔ مشرقی یورپ میں اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا اور پولینڈ کے علاوہ سابقہ چیکوسلوواکیہ اور ہنگری کے عوام بھی اشتراکی آمریت کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ یہ تحریک اتنی شدت کی تھی کہ اس نے یورپ میں اشتراکیت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

Leipziger Montagsdemonstration vor 20 Jahren Flash-Galerie
9 اکتوبر بروز پیر 1989 ء میں لائپزگ میں منعقد ہونے والا احتجاجی مظاہرہتصویر: picture-alliance/ dpa

9 اکتوبر سے چند ہفتے قبل جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک نے اپنے قیام کی چالیسویں سالگرہ بہت بڑی ملٹری پریڈ کے ساتھ منائی تھی۔ اُس وقت ہی عوام میں حکومت کے خلاف جذبات بھڑک رہے تھے اور معاشرے میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی خواہش نظر آ رہی تھی تاہم حکمران جماعت اور ریاستی قیادت اس حقیقت سے چشم پوشی کر رہی تھیں۔ آخرکار 9 اکتوبر کو مشرقی جرمنی میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو چار ہفتوں تک پُر امن طریقے سے جاری رہنے کے بعد 9 نومبر کو جرمنی اور یورپ کی تاریخ کے ایک نئے باب کے آغاز پر ختم ہوا۔ 9 اکتوبر ہی دراصل منقسم جرمنی کی علامت دیوار برلن کے انہدام کی راہ میں سنگ میل ثابت ہوا۔ یہ دن مشرقی جرمن باشندوں کے لیے فخر کا دن ہے۔ اس دن وہ اپنے اندر پائے جانے والے آمر حکمرانوں سے خوف کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔