1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نشتر آباد میں فلم اور موسیقی کے بازار میں بم دھماکہ

20 ستمبر 2011

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں فلمیں اور موسیقی فروخت کرنے والی ایک مارکیٹ میں موٹر سائیکل میں نصب ایک بم پھٹنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 34 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

https://p.dw.com/p/12cXA
تصویر: AP

فوری طور پر کسی نے اس دہشت گردی کی ذمہ داری قبول نہیں کی البتہ عمومی خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی طالبان عسکریت پسندوں نے کی ہے۔ سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور نے مارے جانے والے شہریوں کی تعداد کی تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ایک موٹر سائیکل میں بم نصب کر کے اُسے نشتر آباد کے علاقے میں قائم سی ڈی مارکیٹ کے اندر کھڑا کر دیا گیا تھا۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار حکم خان کے مطابق اس موٹر سائیکل میں کم از کم 10 کلو وزنی بارودی مواد چھپایا گیا تھا اور پھر ایک ریموٹ کنٹرول کی مدد سے اُس میں دھماکہ کیا گیا۔ پشاور کی شہری پولیس کے سربراہ امتیاز الطاف کے بقول بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جی ٹی روڈ پر واقع یہ سی ڈی مارکیٹ ہی دہشت گردوں کا  ہدف تھی۔ مارے جانے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے جبکہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک بیان کی جا رہی ہے۔

دھماکے کی وجہ سے بیس سے زائد دکانوں اور پارکنگ میں کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا، بازار میں خاصی بھیڑ تھی اور سڑک پر بھی ٹریفک رواں دواں تھا۔

Pakistan Anschlag
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پولیس عہدیدار کے گھر کے باہر جائے واردات کا منظرتصویر: dapd

نشتر آباد کی اس مارکیٹ کو اس سے قبل بھی اس طرز کے حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے البتہ سوات اور دیگر علاقوں میں طالبان کے اثر و رسوخ میں کمی کے بعد اس طرز کی وارداتوں میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کمی دیکھی جا رہی تھی۔

پشاور کے اس حملے سے قبل پیر کو علی الصبح ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک کار بم حملے میں آٹھ افراد مارے گئے۔ سندھ صوبے کے دارالحکومت میں کی گئی اس دہشت گردی کا نشانہ پولیس کی کرائم انویسٹی گیشن برانچ کے ایک عہدیدار بتائے جا رہے ہیں جو حملے میں محفوظ رہے۔ اسلم خان المعروف چوہدری اسلم نامی اس عہدیدار کا کہنا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی ان ’بزدلانہ کارروائیوں‘ سے خوفزدہ ہونے والے نہیں۔

خبر رساں اے ایف پی کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں 2007ء کے لال مسجد آپریشن کے بعد سے قریب 4700 شہری طالبان اور القاعدہ کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں