1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مہاجرین کا بحران: اٹلی کو عالمی مدد کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ

عابد حسین
2 جولائی 2017

اقوام متحدہ کی ریفیوجی ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اٹلی کو مہاجرین کے معاملے پر فوری مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اٹلی کی مدد کریں تا کہ وہ مہاجرین کو سنبھال سکے۔

https://p.dw.com/p/2fma2
Mittelmeer - Flüchtlinge – Boot
تصویر: Getty Images/AFP/A. Messinis

ریفیوجی ایجنسی کے سربراہ فلیپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ رواں برس کے اوائل سے اٹلی کی حکومت کو عالمی امداد کی ضرورت ہے اور عالمی برادری کو اس صورت حال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ گرانڈی کے مطابق اسی امداد سے ہی  اطالوی حکام مہاجرین کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں گے ورنہ صورت حال ابتر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے ادارے کے سربراہ نے صورت حال پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو دیکھا جا رہا ہے، اُس کے مطابق ایک المیہ جنم لے رہا ہے اور یہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ گرانڈی نے مزید کہا کہ گزشتہ ویک اینڈ سے لے کر اب تک ساڑھے بارہ ہزار سے زائد مہاجرین اطالوی ساحلی پٹی تک پہنچے ہیں۔ انہوں نٰے یہ بھی کہا کہ ان مہاجرین کے ہمراہ آنے والے کئی مہاجرین بحیرہ روم کی تند موجوں کی نذر بھی ہوئے ہیں۔

Mittelmeer - Flüchtlinge - Boot
رواں برس اب تک اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد تراسی ہزار سے زائد ہےتصویر: picture-alliance/NurPhoto/A. Masiello

فلیپو گرانڈی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اٹلی موجودہ صورت حال میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے اور وہ اُن مہاجرین کو وصول کرنے سے گریز نہیں کر رہا، جنہیں سمندر میں سے بچایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سینیئر اہلکار نے اطالوی حکام کی تعریف کی کہ وہ کئی ضرورت مندوں کو سیاسی پناہ دینے کا سلسلے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

آج اتوار دو جولائی کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں میزبان فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے داخلہ کی ایک میٹنگ ہو گی اور اُس میں خاص طور پر مہاجرین کی صورت حال کو زیر بحث لایا جائے گا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس میٹنگ میں اٹلی کی مدد کے حوالے سے ایک منظم اپروچ اپنانے پر کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

رواں برس کے شروع ہونے سے اب تک تراسی ہزار مہاجرین اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس تعداد میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب تک دو ہزار سے زائد مہاجر ڈوب کر ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔