1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مصر میں سقارہ کا قدیم معبد دوبارہ کھول دیا گیا

Maqbool Malik21 ستمبر 2012

مصری حکام نے قدیم مصر کی تاریخ کے خزانوں میں سے ایک اور ہزاروں برس پرانے سقارہ کے معبد کو سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ وہاں ہزاروں سال قبل مقدس بیل دفن کیے جاتے تھے۔

https://p.dw.com/p/16CA2
تصویر: picture-alliance/dpa

قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں میں جرمن خبر ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ قدیم مصر کی تاریخ میں ہزاروں سال تک مذہبی حوالے سے انتہائی اہم حیثیت کی حامل یہ جگہ بین الاقوامی سطح پر Serapeum of Saqqara کے نام سے جانی جاتی ہے۔ Serapeum قدیم مصری اور یونانی تہذیب میں کسی ایسی جگہ کو کہتے تھے جو یا تو کوئی معبد ہو یا پھر مذہبی اہمیت کا حامل کوئی ادارہ۔

قدیم مصری تہذیب کی ہزاروں سال پرانی تاریخ میں ’سقارہ سیراپیم‘ سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں ماضی میں مقدس بیلوں یا sacred bulls کو ان کی موت کے بعد دفن کیا جاتا تھا۔ سقارہ کا سیراپیم اتنا قدیم ہے کہ وہاں ایک مقدس قبرستان کے طور پر ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصے تک قدیم مصر کے حکمران اور باشندے اپنے مر جانے والے ان بیلوں کو دفنایا کرتے تھے جو ان کے لیے انتہائی حد تک تقدیس کے حامل ہوا کرتے تھے۔

مصر میں تاریخی نوادرات کے وزیر محمد ابراہیم نے جمعرات کی شام قاہرہ میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ قدیم قبرستان دس سال تک عمومی مرمت اور بحالی کے کاموں کے لیے بند رہا، جسے اب ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ محمد ابراہیم کے بقول ملکی دارالحکومت قاہرہ کے نواح میں واقع اس تاریخی مقام کو بحالی کا طویل کام مکمل ہونے کے بعد نئے ٹورازم سیزن کے آغاز پر اس لیے کھول دیا گیا ہے کہ مصر کا رخ کرنے والے لاکھوں سیاح یہ دیکھ سکیں کہ یہ ملک آج بھی نہ صرف سیاحت کے لیے ایک محفوظ مقام ہے بلکہ وہاں نیل کی تہذیب کے ورثے اور نوادرات کے چاہنے والے آج بھی ہر قسم کی قدیم باقیات کو ذاتی طور پر بہت قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔

Saqqara - Großbild
سقارہ کا قدیم قبرستان اور معبد قاہرہ سے قریب بیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہےتصویر: DW

سقارہ کا سیراپیم آج کل کے قاہرہ سے قریب 20 کلو میٹر جنوب کی طرف واقع ہے اور جغرافیائی طور پر یہ ہزاروں سال پرانا معبد قدیم مصر کے اس دارالحکومت کے بالکل نواح میں واقع ہے، جو Memphis کہلاتا تھا۔ ہزاروں سال قبل کے مصر کے تہذیبی عروج کے دور میں یہ جگہ ان بیلوں کو دفنانے کی جگہ تھی جو قدیم مصری دیوتا Hape یا Apis کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق مقدس بیلوں کے اس قبرستان کی بنیاد Amenhotep سوئم نامی فرعون نے 14 ویں صدی قبل از مسیح میں رکھی تھی۔ وہاں مقدس سمجھے جانے والے بیلوں کی تدفین کا عمل سلطنت روما کے دور میں بھی جاری رہا تھا۔ اس قبرستان کی موجودگی کا پتہ قدیم مصری علوم کے فرانسیسی ماہر Auguste Mariette نے 1851 میں چلایا تھا اور تب انہیں وہاں سے گرینائٹ کے بنے ہوئے ایسے 24 پتھریلے تابوت ملے تھے جن میں سے ہر ایک کا وزن 60 اور 70 ٹن کے درمیان تھا۔

(mm / sks (dpa