1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

متاثرین سیلاب کو ایک ملین وطن کارڈ جاری، بلوچستان میں ایک بھی نہیں

28 اکتوبر 2010

پاکستانی حکومت کے مطابق ایک ملین سے زائد متاثرین سیلاب کو امدادی رقوم کی ادائیگی کے لئے وطن کارڈ جاری کر دئے گئے ہیں۔ ان میں بلوچستان کا ایک بھی متاثرہ شہری شامل نہیں ہے۔

https://p.dw.com/p/Pr7L
بلوچستان میں سیلابی متاثرین تاحال مالی امداد کے منتظرتصویر: AP

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں کے متاثرین کو جھانسہ دے کر ان کے وطن کارڈ ہتھیانے والوں کے خلاف دھوکہ دہی کے مقدمات درج کئے جائیں گے۔

وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ نادرا نے ایک ایسا فول پروف سسٹم تیار کر لیا ہے جس کے باعث اب کوئی بھی شخص فراڈ کے ذریعے وطن کارڈ حاصل نہیں کر پائے گا۔ اس موقع پر صحافیوں کو ایک ایسے شخص کی تصویر بھی دکھائی گئی، جس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے ذریعے 119 مرتبہ وطن کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

چیئر مین نادرا نے یہ انکشاف بھی کیا کہ تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بلوچستان میں کسی ایک بھی متاثرہ شخص کو وطن کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔ جب وزیر داخلہ سے پوچھا گیا کہ ایسا کس وجہ سے نہ ہو سکا، تو انہوں نے کہا: ’’جب تک بلوچستان حکومت اپنے متاثرہ علاقوں کو وطن کارڈ کے حوالے سے مطلع نہیں کرتی اور اس نوٹس کی کاپی وفاقی حکومت کو ارسال نہیں کی جاتی، تب تک طے شدہ اصولوں کے مطابق ہم آگے نہیں چل سکتے۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ بلوچستان حکومت نے بہت زیادہ دیر کر دی ہے۔ اس کی بھی بعض وجوہات ہوں گی۔‘‘

Pakistan Innenminister Rehman Malik
وطن کارڈز کے فول پروف اجراء کا سسٹم تیار، رحمان ملکتصویر: Abdul Sabooh

نادرا حکام کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک سیلاب زدگان کو 18.8 ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ تاہم دوسری جانب سیلاب زدگان اور ان کی امداد کے لئے سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ وطن کارڈ کے اجراء کے لئے اپنایا گیا طریقہء کار غیر شفاف ہے، جو غلطیوں سے بھرا پڑا ہے۔

ادارہ برائے پائیدار ترقی ( SDPI) کے پالیسی آفیسر فیصل ندیم گورچانی کا کہنا ہے کہ ایسے متعدد واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں، جن میں غیر مستحق افراد کو پیسے ملے مگر سیلاب سے بری طرح متاثرہ افراد ایسی رقوم سے محروم رہے۔

انہوں نے کہا: ''ابھی تک لوگ یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ وطن کارڈ کون کون سے علاقوں میں دئے جائیں گے اور کس کس کو دئے جائیں گے۔ اس میں پسند ناپسند کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ مختلف معاملات ایسے ہیں، جن کی وجہ سے لوگ اب سیلابی آفت بھول کر انسان کی پیدا کردہ مصیبت کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔‘‘

پاکستان میں بائیس جولائی کو آنے والے سیلاب سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو کروڑ افراد متاثر ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متاثرین حکومت کی جانب سے امداد کی عدم فراہمی کے شاکی ہیں تو بعض متاثرہ علاقوں میں تو باقاعدہ احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں