1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مارشل لاء؟ MQM کا ناقابلِ فہم مطالبہ

30 اگست 2010

ایک ایسے وقت میں، جب ملکی تاریخ کے بد ترین سیلاب کی تباہ کاریاں اپنے عروج پر تھیں، حکومت کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے ایک بیان نے ملکی و بین الاقوامی سیاست میں ایک طوفان کھڑا کر دیا۔

https://p.dw.com/p/OzU6
پاکستان: موجودہ اور سابق آرمی سربراہانتصویر: AP

الطاف حسین نےمحب وطن فوجیوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں، جاگیرداروں کا احتساب کریں تو ایم کیو ایم ان کے ایسے اقدام کی حمایت کرے گی۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم کے قائد کے اس بیان کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا، اِس پر گرما گرم بیانات کاسلسلہ شروع ہو گیا اور اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرائی گئی۔

الطاف حسین کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، وہ مارشل لاء کی حمایت نہیں کر سکتے۔ مگر جنرل مشرف کی حمایت کے حوالے سے ان کا اور ان کی جماعت کا طرزِ عمل مبہم رہا ہے۔ ایک ایسے وقت پر، جب حکومت سیلاب کی تباہ کاریوں اور امدادی کاموں کے حوالے سے ہدف تنقید بنی ہوئی تھی، سیاستدانوں اور عوام کی توجہ الطاف حسین کے اس بیان پر مرکوز ہو گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سے محاذ آرائی کے باوجود ایم کیو ایم کا یہ رویہ ناقابل فہم ہے۔

Unruhen nach Demo in Karachi
متحدہ قومی موومنٹ کے حامی اکثر بڑے بڑے اجتماعات میں اپنے قائد الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطاب سنتے ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

پیپلز پارٹی کی بجائے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئی ہیں۔ ن لیگ کے سکریٹری اطلاعات احسن اقبال کا کہنا تھا کہ متحدہ ایک جانب تو اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے جبکہ دوسری جانب فوج کو اقتدار سنبھالنے ا ور جمہوری حکومت ختم کرنے کی دعوت دے رہی ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ الطاف حسین کا بیان آئین سے بغاوت ہے ، ان کے خلاف آرٹیکل6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ وہ فوج کو بغاوت کے لیے اکسا رہے ہیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما حیدر عباس رضوی اپنے قائد الطاف حسین کے بیان کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے۔ دُنیا بھر میں جب کبھی کرپٹ اور بدعنوان سیاستدان برسر اقتدار آ جاتے ہیں، تو اُنہیں اقتدار سے رخصت کرنے کے لیے عوام کو کھڑا ہونا پڑتا ہے، تاہم حیدر عباس رضوی اس بات کا واضح جواب دینے سے قاصر رہے کہ الطاف حسین نے فوج کو اقتدارسنبھالنے کی دعوت کیوں دی ہیں۔

Pervez Musharraf Plakat
سابق حکمران ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کا ایک پوسٹر، جسے مشتعل عوام نے پھاڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم سابق صدر کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہےتصویر: AP

الطاف حسین کی طرف سے فوجی جرنیلوں کو ا قتدار کی دعوت دینے پر حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا رویہ بھی خاصا حیران کن ہے۔ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ اور دیگر وفاقی وزراء اس بیان کی مذمت کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔ قمر زمان کائرہ نے صرف اتنا کہا کہ پاکستان میں جمہوریت بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوئی ہے، الطاف حسین کوایسا بیان ہرگز نہیں دینا چاہیے تھا۔ ایم ایم کیو ایم کی سیاست کو قریب سے جاننے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی جانب سے دئے گئے اس بیان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ جہاں خود ساختہ جلا وطنی کے دوران الطاف حسین کے بین الاقوامی روابط بڑھے ہیں، وہیں ملک کی اصل حکمراں قوت سے بھی متحدہ کے رابطے مستحکم ہوئے ہیں۔

بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاری کے بعد حکومت کے ساتھ متحدہ کے تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں اور اب دونوں ایک دوسرے سے جان چھڑانے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے حالیہ بیان کے پیچھے بھی کوئی گہری سوچ اور فکر پوشیدہ ہے، جس کے ملکی سیاست پر اثرات جلد سامنے آ سکتے ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: امجد علی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں