1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ماحولیاتی تبدیلیاں روکنے کے لیے وسیع تر کوششیں درکار ہے، میرکل

4 جولائی 2011

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے وسیع تر عالمی کوششیں اور لگن درکار ہے۔ انہوں نے یہ بات برلن میں ایک ماحولیاتی اجلاس سے خطاب میں کہی، جس میں پینتیس ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔

https://p.dw.com/p/11oLA
جرمن چانسلر انگیلا میرکلتصویر: dapd

چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کو دارالحکومت برلن میں ماحولیاتی اجلاس کے موقع پر کہا کہ جرمنی اور یورپی یونین کیوٹو پروٹوکول کے متبادل پر اتفاق رائے کے لیے کوشاں ہے، جس کی مدت آئندہ برس ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اس حوالے سے ہم جرأت سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘

جرمن چانسلر نے یہ بھی کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں جو رضاکارانہ کمی کی جا رہی ہے، وہ کافی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کا اخراج تشویشناک ہے جبکہ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات سست روی کا شکار ہیں۔

میرکل نے یہ بھی کہا کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنا صنعتی ممالک کی ذمہ داری تو ہے، لیکن اس کے لیے ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

برلن میں اتوار کو ہونے والے ماحولیاتی مذاکرات کا مقصد جنوبی افریقہ میں ہونے والے اقوام متحدہ کے آئندہ مذاکرات کی تیاری تھا، جو رواں برس اٹھائیس نومبر سے ڈربن میں شروع ہوں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس وقت کسی نئے، قانونی معاہدے پر اتفاق رائے ہو جائے گا۔

Zweiter Petersberger Klimadialog Axica Kongress- und Tageszentrum Berlin
جرمن وزیر ماحولیات جنوبی افریقہ کی اپنی ہم منصب کے ساتھتصویر: DW/H.Jeppesen

برلن کے اجلاس کی میزبانی جرمنی اور جنوبی افریقہ نے مشترکہ طور پر کی، جو دراصل گزشتہ ماہ بون میں ہونے والے اجلاس کا نتیجہ تھا، جس میں اقوام متحدہ کے متعدد رکن ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے، جو اس اجلاس میں کسی نتیجے میں پر نہ پہنچ سکے۔

تاہم اتوار کے مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلا، اس کا اعلان جرمن وزیر ماحولیات نوربیرٹ روئٹگین اور جنوبی افریقہ کی ان کی ہم منصب Maite Nkoana-Mashabane پیر کو کریں گی۔

بات چیت کے اس عمل میں چین اور امریکہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ چونکہ ان ممالک کی صنعتوں سے اٹھنے والا دھواں ماحول کے لیے زیادہ خطرناک ہے، اس لیے روئٹگین نے ان کے نمائندوں کی اجلاس میں شرکت کو مثبت قرار دیا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں