1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لیجنڈری ستار نواز روی شنکر انتقال کر گئے

12 دسمبر 2012

بھارتی ستار نواز روی شنکر منگل کو چل بسے۔ ان کی عمر بانوے برس تھی۔ ان کے خاندان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کا انتقال کیلی فورنیا میں ہوا۔

https://p.dw.com/p/170DG
تصویر: Reuters

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق روی شنکر کے خاندان نے ان کی موت کی تصدیق انٹرنیٹ پر جاری کیے گئے بیان میں کی ہے۔

وہ گریمی ایوارڈ یافتہ امریکی گلوکارہ نورا جانز اور موسیقار انوشکا شنکر کے والد ہیں۔ انہوں نے سوگواروں میں تین پوتے پوتیاں اور ان کے چار بچے بھی چھوڑے ہیں۔

روی شنکر فاؤنڈیشن کے مطابق لیجنڈری ستار نواز گزشتہ برس سے سانس اور دل کے امراض میں مبتلا تھے۔ جمعرات کو سان ڈیگو میں ان کے دل کی سرجری ہوئی تھی، جو کامیاب رہی تھی تاہم وہ سنبھل نہ سکے۔

ان کی اہلیہ اور بیٹی انوشکا کا کہنا ہے: ’’سرجنوں اور ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بہت کوشش کی، لیکن بد قمستی سے ان کا جسم سرجری کا تناؤ نہ سہہ سکا۔‘‘

ان کے خاندان کے ذرائع نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا: ’’اگرچہ یہ دُکھ کا موقع ہے، یہ اس بات کے لیے شکر گزاری کا وقت بھی ہے کہ وہ ہماری زندگیوں کا حصہ رہے۔ وہ اپنی موسیقی اور ہمارے دِلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔‘‘

Norah Jones Grammy Verleihung
نورا جانزتصویر: AP

روی شنکر انڈین کلاسیکی موسیقی کو مغرب میں مقبول کرنے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ بیٹلز کے گٹارسٹ جارج ہیری اور وائلنسٹ یہودی منوہین کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

روی شنکر کو دنیا کا مقبول ترین ستار نواز قرار دیا جاتا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں اپنے عروج کے دور میں انہیں بھارت کا مقبول ترین موسیقار کہا جاتا ہے۔ منوہین نے روی شنکر کی صلاحیت اور انسان دوستی کو موزارٹ کے ہم پلہ قرار دیا تھا جبکہ بیٹلز نے انہیں دنیائے موسیقی کے گاڈ فادر کا خطاب دیا تھا۔

انہوں نے تین مرتبہ گریمی ایوارڈ جیتا جبکہ 1967ء میں مونٹیرے فیسٹیول اور وُڈ سٹاک میں بھی پرفارم کیا تھا۔

روی شنکر نے آخری مرتبہ چار نومبر کو کیلی فورنیا کے لانگ بیچ پر اپنی بیٹی انوشکا شنکر کے ساتھ پرفارم کیا تھا۔ سرجری سے ایک روز قبل انہیں البم ’دی لوِنگ رُوم سیشنز، پارٹ وَن‘ کے لیے گریمی ایوارڈ کی نامزدگی ملی تھی۔ وہ بھارت امریکا دونوں ملکوں میں رہے جبکہ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے غیر منتخب رکن بھی رہے۔

ng/ab (AFP, dpa, Reuters)