1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لندن کے خلاف سکاٹ لینڈ اور ویلز کی اختیارات کی جنگ ابھی سے

مقبول ملک روئٹرز
28 فروری 2018

برطانیہ کا یورپی یونین سے آئندہ اخراج یا بریگزٹ ابھی کافی دور ہے لیکن سکاٹ لینڈ اور ویلز کی لندن حکومت کے خلاف اختیارات کی جنگ شروع بھی ہو گئی ہے۔ وجہ ان اختیارات کی تقسیم ہے جو یورپی یونین سے واپس برطانیہ کو ملیں گے۔

https://p.dw.com/p/2tSNr
تصویر: Picture-alliance/Bildagentur-online/Ohde

برطانیہ میں سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا سے بدھ اٹھائیس فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ اور ویلز کی حکومتوں نے کل منگل ستائیس فروری کو کہا کہ وہ بریگزٹ کے بعد اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے ابھی سے اپنے اپنے علاقائی پارلیمانی اداروں میں چند خاص قانونی مسودے منظوری کے لیے پیش کر دیں گی۔

یورپی یونین کی صدارت چھ ماہ کے لیے بلغاریہ کے پاس

بریگزٹ سے متعلق سکاٹش عدالت کا فیصلہ اگلے ہفتے

علاقائی سطح پر نئی قانون سازی کی ان کوششوں کی وجہ وہ اختیارات ہیں جو مارچ 2019ء کے آخر تک برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑ دینے کے بعد برسلز سے واپس برطانیہ کو مل جائیں گے لیکن سکاٹ لینڈ اور ویلز کی علاقائی حکومتیں نہیں چاہتیں کہ یہ اختیارات پھر لندن کے پاس چلے جائیں۔ اس کے برعکس ایڈنبرا اور کارڈیف میں حکومتوں کی خواہش ہے کہ یہ اختیارات انہیں ملنا چاہییں۔

Barentssee Fang von Kabeljau
یورپی یونین کے ہر رکن ملک میں زراعت اور ماہی گیری سے متعلق جملہ اختیارات برسلز کے پاس ہیںتصویر: Getty Images/AFP/M. Mochet

روئٹرز کے مطابق سکاٹ لینڈ اور ویلز کے پارلیمانی اداروں میں ان مجوزہ قانونی مسودوں پر بحث آئندہ چند دنوں میں شروع ہو تو جائے گی، لیکن یہی پیش رفت خود لندن میں ملکی حکومت کے لیے ایک نیا دردسر بھی بن جائے گی۔

بریگزٹ معاہدہ ترکی اور یوکرائن کے لیے ماڈل ہو سکتا ہے، جرمنی

یورپی یونین ختم کی جائے، انتہائی دائیں بازو کی یورپی جماعتیں

برطانیہ میں ملکی سطح پر لندن کے ساتھ ساتھ ایڈنبرا اور کارڈیف کی علاقائی سطح پر طاقت کے جائز مرکز بننے کی اس جمہوری خواہش کا نقصان یہ ہو گا کہ اس سے نہ صرف برطانیہ کی داخلی سیاست میں یقینی طور پر ایک نئی رسہ کشی شروع ہو جائے گی بلکہ اس سے بریگزٹ کا عمل بھی نئی پیچیدگیوں کا شکار ہو جائے گا، جو یونین کی رکنیت کے خاتمے سے متعلق لندن اور برسلز کے مابین طویل اور بہت مشکل مذاکراتی عمل کو بھی متاثر کرے گا۔

لندن کی برطانیہ کے اندر ہی ایڈنبرا اور کارڈیف کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کی یہ نئی جنگ جن شعبوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گی، ان میں زراعت اور ماہی گیری کے شعبے بھی شامل ہوں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پوری یورپی یونین میں اس بلاک کے لیے طے کردہ مجموعی فریم ورک کے تحت زراعت اور ماہی گیری بھی متعلقہ رکن ممالک کے بجائے یونین ہی کی عمل داری میں آتے ہیں۔ لیکن جب برطانیہ میں ان امور کا نگران برسلز نہیں رہے گا تو متنازعہ سوال یہ ہو گا کہ پھر ان اور ایسے دیگر شعبوں میں فیصلہ سازی آئندہ لندن حکومت کرے گی یا پھر متعلقہ علاقائی حکومتیں۔

بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت

بریگزٹ کے خلاف لندن میں ہزارہا شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ

اس موضوع پر لندن حکومت سیاسی مصلحت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ اور ویلز کو انتظامی رعایات دے تو سکتی ہے لیکن اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ عمل بہت صبر آزما ہو گا۔ جہاں تک خود برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کا سوال ہے تو وہ یہ اشارے دے چکی ہیں کہ برطانوی ریاست کے مجموعی اتحاد اور وحدت کے تسلسل کے لیے مستقبل میں اختیارات اور عمل داری سے متعلق کچھ استثنائی فیصلے ممکن ہیں۔