1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فیفا کو بحران کا سامنا نہیں، بلاٹر

31 مئی 2011

فیفا کے سربراہ سیپ بلاٹر نے کہا ہے کہ فٹ بال کی یہ عالمی تنظیم کسی بحران کی شکار نہیں اور تمام مشکلات اندرونی سطح پر حل کر لی جائیں گی۔

https://p.dw.com/p/11R1k
سیپ بلاٹرتصویر: picture-alliance/dpa

بدعنوانی کے الزامات کے تحت فیفا کا بحران سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ ان میں سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ قطر نے 2022 ء کا عالمی کپ کرانے کے لیے میزبانی کے حقوق رشوت دے کر حاصل کیے۔ دو اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے۔

تاہم بلاٹر فیفا کے اس بحران کو معمولی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ پیر کو ایک ای میل سے راز کھلا، جس نے اس بحران کی سنگینی بڑھا دی ہے۔ کیریبیئن، نارتھ اینڈ سینٹرل امریکن فیڈریشن (سی او این سی اے سی اے ایف) کے سربراہ جیک وارنر نے یہ ای میل ذرائع ابلاغ کو جاری کی ہے۔ اس میں فیفا کے سیکریٹری جنرل Jerome Valcke نے لکھا ہے کہ جس طرح قطر نے ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق خرید لیے، کیا اسی طرح محمد بن حمام فیفا کی صدارت کا عہدہ نہیں خرید سکتے۔ بعدازاں فیفا کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ان کا اشارہ بدعنوانی کی طرف نہیں تھا بلکہ وہ تو خلیج کی اقتصادی طاقت کی بات کر رہے تھے۔
اُدھر قطر نے بھی ایک بیان میں ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق خریدنے کے الزامات کو ردّ کیا ہے۔ پیر کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں بلاٹر نے کہا کہ 2018 ء اور 2022 ء کے ورلڈ کپ کے لیے جگہ منتخب کرنے کے بارے میں کسی طرح کی دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے۔

Fußball FIFA Mohamed Bin Hammam
محمد بن حمامتصویر: AP

واضح رہے کہ بلاٹر اور فیفا کے نائب صدر جیک وارنر کے خلاف رشوت کے الزامات عائد کیے گئے تھے جبکہ بن حمام پر الزام تھا کہ انہوں نے فیفا کا صدر منتخب ہونے کے لیے ووٹ خریدنے کی کوشش کی تھی۔‍ ایک اور الزام یہ تھا کہ 2022ء کی عالمی فٹ بال چیمپئن شپ کی میزبانی اپنے ملک قطر کو دلوانے کے لیے اُنہوں نے فیفا کے ووٹ ڈالنے کا حق رکھنے والے نمائندوں کو رشوت دی تھی۔

رواں ہفتے فیفا کے آئندہ سربراہ کا انتخاب ہو گا، جس کے لیے بلاٹر کا منتخب ہونا متوقع ہے۔ بلاٹر کو فیفا کے آئندہ سربراہ کے انتخابات میں چیلنج کرنے والے محمد بن حمام اپنا نام واپس لے چکے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ بلاٹر کے لیے چوتھی مرتبہ فیفا کا صدر بننا ممکن دکھائی دیتا ہے۔



رپورٹ: ندیم گِل/خبر رس‍اں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں