1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمقبوضہ فلسطینی علاقے

فائر بندی کے خاتمے کے بعد غزہ پر سینکڑوں نئے اسرائیلی حملے

2 دسمبر 2023

اسرائیل نے حماس کے ساتھ جمعے کے روز عبوری فائر بندی ختم ہونے کے بعد سے ہفتے کی دوپہر تک غزہ پٹی پر سینکڑوں نئے زمینی اور فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس دوران حماس کے تقریباﹰ چار سو اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://p.dw.com/p/4ZiA5
دو دسمبر کی صبح غزہ پٹی پر کیے گئے اسرائیلی حملوں میں سے ایک کے بعد وہاں سے آسمان کی طرف اٹھتا ہوا دھواں
اسرائیلی افواج نے جمعے کی صبح سے لے کر ہفتے کی صبح تک غزہ پٹی میں تقریباﹰ چار سو اہداف کو نشانہ بنایاتصویر: Alexander Ermochenko/REUTERS

عسکریت پسند تنظیم حماس کے سات اکتوبر کے روز اسرائیل پر دہشت گردانہ حملے کے ساتھ ہی اسرائیل اور حماس کے مابین جو جنگ شروع ہوئی تھی، اس میں عبوری فائر بندی کے طور پر اطراف کے مابین لڑائی میں وقفہ تقریباﹰ ایک ہفتے تک جاری رہا تھا۔

عبوری فائر بندی ختم، غزہ پر اسرائیل کے فوجی حملے شروع

کل جمعہ یکم دسمبر کی صبح اس سیزفائر کی تب تک طے شدہ مدت مزید کوئی توسیع نہ ہونے کی وجہ سے پوری ہو گئی اور اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ پٹی میں حماس کے ٹھکانوں پر پھر سے فضائی، زمینی اور بحری حملے شروع کر دیے تھے۔

تقریباﹰ چار سو اہداف پر فوجی حملے

آج ہفتہ دو دسمبر کے روز اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی طرف سے بتایا گیا کہ جمعے سے لے کر ہفتے کی صبح تک غزہ پٹی کے زیادہ تر جنوبی حصے میں تقریباﹰ 400 ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں اسرائیلی فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم اہداف کا نام دیا۔

خان یونس میں اسرائیل کے ایک تازہ فضائی حملے کے بعد ایک تبادہ شدہ عمارت
خان یونس میں اسرائیل کے ایک تازہ فضائی حملے کے بعد ایک تبادہ شدہ عمارت کا منظرتصویر: dpa

اس دوران فضائی اور بحری کے علاوہ زمینی فوج کی طرف سے ٹینکوں سے بھی جو گولہ باری کی گئی، اس کا نشانہ زیادہ تر خان يونس نامی فلسطینی علاقہ تھا، جہاں اسرائیلی فوج کے مطابق ''دہشت گرد تنظیم حماس کے کم از کم 50 اہداف‘‘ کو تباہ کر ديا گيا۔

اسرائیل اور حماس جمعہ تک فائر بندی میں توسیع پر متفق

ادھر حماس کے زير انتظام غزہ پٹی میں فلسطينی طبی ذرائع نے کہا ہے کہ کل جمعے سے دوبارہ شروع کی گئی اسرائيلی فوجی کارروائیوں ميں آج ہفتے کی صبح تک مزيد کم از کم دو سو فلسطينی ہلاک ہو گئے۔

غزہ سے عام شہریوں کے انخلا کے لیے نقشہ جاری

اسرائیل کی فوج کی طرف سے آج ہفتے ہی کے روز ایک ایسا نقشہ بھی جاری کر دیا گیا، جسے مختلف خبر رساں اداروں نے غزہ پٹی کے علاقے سے عام فلسطینی شہریوں کے انخلا کے لیے جاری کردہ نقشے کا نام دیا ہے۔ اس نقشے کے ساتھ ہی آئی ڈی ایف کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں ''حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت ملٹری ایکشن دوبارہ شروع‘‘ کر دیا ہے۔

غزہ پٹی پر دو دسمبر کو کیے جانے والے سینکڑوں اسرائیلی حملوں کے دوران جنوبی غزہ کی ایک فضائی تصویر
غزہ میں 'حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت ملٹری ایکشن دوبارہ شروع‘ کر دیا ہے، اسرائیلی فوج کا اعلانتصویر: AFP

اس اعلان میں اسرائیلی افواج نے غزہ پٹی کے شمالی حصے کے رہائشی فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ ''فوری طور پر‘‘ شمالی حصے میں اپنے گھر خالی کر کے جنوبی غزہ میں قائم پناہ گاہوں اور سکولوں میں منتقل ہو جائیں۔

اس سلسلے میں آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان نے ان مخصوص علاقوں کے ناموں کی فہرست بھی جاری کر دی، جہاں سے مقامی باشندوں کو جنوبی غزہ کی طرف چلے جانا چاہیے۔ ان علاقوں میں جبالیہ، شجاعیہ، زیتون اور غزہ کا پرانا شہر بھی شامل ہیں۔

غزہ پٹی میں حماس کا سربراہ یحییٰ السنوار کون ہے؟

فوجی ترجمان نے خاص طور پر جبالیہ میں چھ ایسی عمارات کی نام لے کر نشان دہی بھی کی، جنہیں وہاں کے مکینوں کو فی الفور خالی کرنا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ان عمارات کو بعد میں اسرائیلی حملوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

غزہ کے چند رہائشی ایک زخمی فلسطینی کو علاج کے لیے لے جاتے ہوئے
اقوام متحدہ نے غزہ پٹی میں لڑائی دوبارہ شروع ہو جانے کی مذمت کی ہےتصویر: Nutzung nur als Vorschaubild für den Beitrag

شام پر نئے اسرائیلی فضائی حملے

شامی وزارت دفاع کے مطابق اسرائیل نے شامی دارالحکومت دمشق کے قریب ہفتے کو علی الصبح نئے فضائی حملے کیے۔ اس وزارت کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں والے علاقے کی سمت سے یہ حملے جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات ڈیڑھ بجے کے بعد کیے گئے اور ان کا ہدف دمشق شہر کے قریبی علاقے تھے۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق دمشق کے قریب ان اسرائیلی حملوں میں ايران کی حمايت يافتہ لبنانی جنگجو تنظيم حزب اللہ کے دو فائٹر مارے گئے۔ شامی اپوزیشن تنظیم سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق يہ ہلاکتیں مبينہ طور پر اسرائيلی فضائی کارروائی کا نتيجہ تھیں۔

غزہ میں عبوری فائر بندی کو مستقل جنگ بندی میں بدلنے پر زور

سيدہ زينب نامی مقام پر ہفتے کی صبح کيے گئے اس فضائی حملے ميں حزب اللہ کے سات جنگجو زخمی بھی ہوئے۔ اسرائيل شام ميں فضائی حملوں کی باضابطہ طور پر تصديق کم ہی کرتا ہے، تاہم اس کی جانب سے شامی خانہ جنگی کے آغاز سے شام پر وقفے وقفے سے حملے کيے جاتے رہے ہيں۔

ویسٹ بینک میں پرتشدد نقل مکانی کے خوف میں جیتے فلسطینی

اکتوبر کے اوائل ميں حماس کے اسرائيل پر دہشت گردانہ حملے کے بعد سے البتہ اسرائيل کے شام ميں حزب اللہ کے اہداف پر حملوں ميں کافی تيزی ‌آ چکی ہے۔

یورپی یونین کے علاوہ امریکہ اور کئی دیگر ممالک کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے میں تقریباﹰ 1200 افراد مارے گئے تھے جبکہ حماس کے جنگجو جاتے ہوئے تقریباﹰ 240 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔

اسرائیل اور حماس کی موجودہ جنگ: کب کیا ہوا؟

ان حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ پٹی پر جو زمینی اور فضائی حملے شروع کیے، ان میں فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق حال ہی میں ختم  ہونے والی عبوری فائر بندی سے پہلے تک تقریباﹰ 15 ہزار فلسطینی مارے جا چکے تھے، جن میں ہزاروں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

تقریباﹰ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی سیزفائر میں اسرائیل نے تقریباﹰ ڈیڑھ سو فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا جبکہ حماس نے بھی اپنے زیر قبضہ یرغمالیوں میں سے بیسیوں کو واپس اسرائیل کے حوالے کر دیا تھا۔ اب لیکن فائر بندی ختم ہو جانے کے بعد سے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر دوبارہ حملے کیے جا رہے ہیں۔

م م / ع س، ر ب (روئٹرز، اے پی، اے ایف پی)

اسرائیل - حماس جنگ: یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ