1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’طالبان اپنی طرح اپنے بچوں کو تعیلم سے محروم نہ رکھیں‘

کشور مصطفیٰ15 اکتوبر 2014

افغانستان کے نو منتخب صدر اشرف غنی نے طالبان عناصر سے تعلیم کے خلاف جنگ کو ختم کرنے اور ملک میں امن کے قیام کے عمل میں تعاون کرنے کے اپیل کی ہے۔

https://p.dw.com/p/1DVoY
تصویر: UN Photo/Shehzad Noorani

افغان صدر نے یہ بیان اساتذہ کے قومی دن کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک تقریب میں دیا۔ انہوں نے کہا،" ہم حکومت مخالف مسلح گروپوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے خود کو تعلیم کی دولت سے محروم کر رکھا ہے اُسی محرومی کا شکار اپنے بچوں اور اپنی آئندہ نسل کو نہ ہونے دیں"۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا،" آئیے ہم سب ہاتھوں میں ہاتھ دے کر ملک میں امن و استحکام کو ممکن بنائیں کیونکہ امن کے بغیر ملکی استحکام نا ممکن ہے"۔

اشرف غنی جنہوں نے افغانستان کے نئے صدر کی حیثیت سے 30 ستمبر کو حلف اُٹھایا تھا، نے مزید کہا ہے کہ وہ اپنی مہم کو دوران افغانستان میں تعیلم کے نظام کو بہتر بنانے کا وعدہ کر چُکے ہیں اور وہ اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے اپنے پانچ سالہ دور صدارت کے دوران ملک میں اسکول کی سطح کی تعلیم کو معیاری بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات کریں گے۔

افغانستان میں آج 15 اکتوبر کو اساتذہ کا قومی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے نئے افغان صدر نے اپنے ملک کو درپیش گوناگوں مسائل میں سے ایک کلیدی اہمیت کے حامل مسئلے یعنی ’افغانستان میں تعلیم کی ابتر صورتحال‘ کو بہتر بنانے کے لیے اپنی عزم مسمم کا اظہار بھی کیا ہے۔

Zum Thema Afghanistan - Die deutschen Entwicklungshelfer bleiben
افغانستان میں طالبان دور میں لڑکیوں کی تعلیم پر سخت پابندی تھیتصویر: picture-alliance/Photoshot

اشرف غنی نے آئندہ چھ ماہ کے اندر اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے اور اُنہیں زمین کے پلاٹ دینے کا وعدہ بھی کیا۔ افغان صدر نے پاکستانی ٹین ایجر ملالہ یوسفزئی کو گزشتہ ہفتے امن کا نوبل انعام پانے کی مبارکباد بھی دی۔ ملالہ یوسفزئی کو یہ انعام خاص طور سے لڑکیوں کی تعیلم کے لیے اُن کی مہم کے عوض دیا گیا ہے۔ ملالہ کی عمر اس وقت 17 برس ہے۔

ملالہ نو اکتوبر 2012ء کو پاکستان کی وادئ سوات میں طالبان کے ایک حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں۔ ایک گولی ان کے چہرے پر بھی لگی تھی۔ بعد ازاں انہیں برطانیہ بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ برمنگھم کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہیں۔ اب وہ اسی شہر میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی وہ دنیا بھر میں بچوں بالخصوص لڑکیوں کے تعلیم کے حق کی علامت بھی بن چکی ہیں۔

Malala Europaparlament Sacharow Preis 2013
2013 ء میں یورپی پارلیمنٹ میں ملالہ یوسفزئی کو یورپی یونین کے اعلیٰ اعزاز سخاروف پرائز سے نوازا گیا تھاتصویر: Reuters

انہیں انسانی حقوق کے لیے یورپی یونین کے اعلیٰ اعزاز سخاروف پرائز سمیت متعدد عالمی ایوارڈ دیے جا چکے ہیں۔ خیال رہے کہ سخاروف انسانی حقوق کے لیے یورپ کا اعلیٰ انعام تصور کیا جاتا ہے۔ قبل ازیں یہ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں نوبل امن انعام جیتنے والی میانمار کی آنگ سان سوچی اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا بھی شامل ہیں۔ یہ پرائز 1988ء سے ہر سال دیا جاتا ہے۔

ملالہ کو گزشتہ برس کے نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا تاہم نوبل کمیٹی نے یہ انعام دنیا بھر سے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کوشاں تنظیم کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں