1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شامی مہاجر جرمنی سے ترکی کیوں جا رہے ہیں؟

12 اپریل 2018

شام سے تعلق رکھنے والے چند مہاجرین نے جرمنی میں قیام کا اجازت نامہ مل جانے کے بعد ترکی جانے اور وہاں اپنے اہل خانہ سے جا ملنے اور ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔

https://p.dw.com/p/2vwJ2
Türkische Flagge in Flüchtlingslager
تصویر: picture-alliance/AP Photo/L. Pitarakis

جرمن میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق ایسے متعدد شامی مہاجرین ہیں، جو جرمنی میں مہاجر کا باقاعدہ درجہ اور قیام کی اجازت ملنے کے باوجود ترکی جا کر وہاں موجود اپنے باقی ماندہ اہل خانہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

جمعرات 12 اپریل کو سامنے آنے والی ان رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران بعض صورتوں میں ان مہاجرین نے انسانوں کے اسمگلروں کی مدد بھی لی، تاکہ انہیں جرمنی سے نکال کر ترکی پہنچایا جائے، جہاں پہلے ہی کئی لاکھ شامی باشندے موجود ہیں۔ اس طرح ان مہاجرین نے بغیر ویزہ اور بغیر سفری دستاویزات یہ سفر کیا۔

جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی اور صحافی پلیٹ فارم ایس ٹی آر جی آئی ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق اس طرح جرمنی میں قیام کے اجازت ناموں کے حامل ان مہاجرین نے غیرقانونی طور پر سفر کیا اور اپنے اس سفر سے متعلق جرمن حکام کو معلومات فراہم نہ کیں۔

اس رپورٹ میں متعدد ایسے شامی باشندوں کے انٹرویو بھی شامل کیے گئے ہیں، جو ترکی جا رہے تھے جب کہ کچھ اسمگلروں سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں ایک اسمگلر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ جرمنی سے قریب 50 مہاجرین یومیہ کے حساب سے ترکی منتقل کرنے میں مدد دیتا رہا ہے، جن میں بڑی تعداد شامی باشندوں کی تھی۔ ایک اور اسمگلر کا کہنا تھا کہ وہ جرمنی سے جتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کو غیرقانونی طور پر ترکی پہنچا رہا تھا، اتنی بڑی تعداد میں لوگ واپس نہیں آ رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR سے وابستہ ایک اہلکار نے بتایا کہ انہیں بھی ایسے معاملات کی خبریں موصول ہوئی ہیں تاہم اس اہلکار نے اس سلسلے میں اعدادوشمار ظاہر نہیں کیے۔ اس اہلکار نے بتایا کہ اس طرح غیرقانونی سفر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جرمنی نے ان مہاجرین کے اہل خانہ سے متعلق اپنی پالیسی سخت بنا رکھی ہے۔

واضح رہے کہ مہاجرین کا اپنے اہل خانہ کو جرمنی بلانے کا موضوع انتہائی حساس ہے اور عوامی سطح پر اس پر متضاد رائے پائی جاتی ہے۔ یورپی یونین میں مہاجرین کو قبول کرنے کے اعتبار سے جرمنی سر فہرست ہے، جہاں حالیہ کچھ برسوں میں لاکھوں افراد پہنچے ہیں۔

ع ت / الف الف