1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’زینب کا قاتل ممکنہ طور پر ایک سیریل کِلر ہے‘

شمشیر حیدر AFP/AP
13 جنوری 2018

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ قصور میں ریپ کے بعد قتل کر دی جانے والی سات سالہ زینب کا قاتل ممکنہ طور پر ایک سیریل کِلر ہے۔ ملزم کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

https://p.dw.com/p/2qnbO
Protest in Karachi nach der Ermordung der siebenjährigen Zainab
تصویر: Faria Sahar

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ زینب قتل کیس میں حاصل کردہ ڈی این اے نمونے قصور میں ریپ کے بعد قتل کر دیے جانے والے پانچ دیگر بچوں کے کیس میں ملنے والے نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس کیس میں جاری تحقیقات سے اب تک یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ زینب اور دیگر بچوں کے ریپ اور قتل میں ممکنہ طور پر ایک ہی شخص ملوث ہے۔

سانحہ قصور: زینب کا قاتل گرفتار نہیں ہو سکا

اور کتنی زینبیں سماجی، سیاسی زبوں حالی کی بھینٹ چڑھیں گی؟

پولیس نے اب تک آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر رکھا ہے جن میں زینب انصاری کے دو رشتہ دار بھی شامل ہیں۔

لاہور کے نواحی شہر قصور میں آج حالات گزشتہ دنوں کی نسبت بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔ شہر میں کاروباری ادارے دوبارہ کھل چکے ہیں۔ قصور میں پولیس اور پیرا ملٹری دستے گشت کر رہے ہیں اور اہم عمارتوں کی حفاظت پر بھی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

’بچیوں کے تحفظ کے لیے ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے‘

رانا ثنا اللہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ زینب کے قاتل کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کیمروں سے حاصل کردہ نئی فوٹیج میں چھوٹی داڑھی والے ایک شخص کو زینب انصاری کے گھر کے قریب چہل قدمی کرتے دیکھا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں کو امید ہے کہ نئی فوٹیج کی مدد سے مشتبہ ملزم کی شناخت ممکن ہو پائے گی۔ رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ زینب کے والد کی شکایت کے بعد تفتیشی ٹیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تفتیشی ٹیم کا نیا سربراہ ایک تجربہ کار آفیسر ہے۔

اس واقعے کے بعد قصور سمیت ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ قصور کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ زینب کی گم شدگی کے بعد حکام نے اس کی تلاش میں سست روی سے کام لیا تھا تاہم پولیس ایسے الزامات کی تردید کرتی ہے۔ قصور میں زینب کے قتل کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم میں دو شہری ہلاک اور کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔

کم سن بچی کا قتل، پاکستان سکتے میں

پولیس نے زینب کی تلاش میں سست روی سے کام لیا، انیس انصاری