1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خفیہ جیلیں: یورپی ممالک پر سی آئی اے کی معاونت کا الزام

26 اگست 2009

بعض یورپی ممالک پر مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف 'غیر قانونی تفتیش' میں امریکی ادارے سی آئی اے کی معاونت کا الزام ہے۔ لیتھوینیا نے ایسے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کردیا ہے۔

https://p.dw.com/p/JINi
تصویر: AP
Barroso stellt Programm der EU-Kommission im EU-Parlament vor
یورپی کمیشن کے سربراہ ہوزے مانویل باروسوتصویر: AP

یورپی کمیشن نے تفتیشی عمل کے دوران بنیادی انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے۔ یورپی کمیشن کے سربراہ ہوزے مانویل باروسو نے کہا کہ ایسے دعووں کی سچائی کا پتا چلانے کے لئے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔

وہ منگل کو بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں لیتھوینیا کی صدر ڈالیا گریباؤسکائٹی کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

باروسو نے امریکہ کا نام لئے بغیر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران بنیادی حقوق کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لئے احترام جتنا زیادہ دکھایا جائے گا دہشت گردی کے خلاف جنگ اسی قدر موثر ہوگی۔

گزشتہ ہفتے ایک امریکی ٹیلی ویژن 'اے بی سی' نے سی آئی اے کے ایک نامعلوم سابق اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس خفیہ ادارے کے زیرانتظام لیتھوینیا میں ایک خفیہ جیل تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق لیتھونیا میں دارالحکومت ولنیئس سے باہر قائم اس خفیہ جیل میں آٹھ مشتبہ دہشت گرد قید تھے اور یہ جیل 2005 میں بند کر دی گئی تھی۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پولینڈ اور رومانیہ میں بھی سی آئی اے کی خفیہ جیلیں موجود رہی ہیں۔

لیتھونیا کی وزارت خارجہ ان خبروں کی پہلے ہی تردید کر چکی ہے۔ تاہم منگل کو یورپی کمیشن کے سربراہ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں لیتھوینیا کی صدر ڈالیا گریباؤسکائٹی نے کہا کہ ان کا ملک اپنے خلاف ان الزامات کی تحقیق کرے گا۔

Litauen Jahrestag 2009 Baltischer Weg 1989 Dalia Grybauskaite
لیتھوینیا کی صدر ڈالیا گریباؤسکائٹیتصویر: AP

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان خبروں کی فی الحال تصدیق نہیں کر سکتیں تاہم اس حوالے سے تفتیش کی جائے گی اور ویلنیئس کی پارلیمان نے اس مقصد کے لئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ ان کا ملک ایسے الزامات کی زد میں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان الزامات میں کس حد تک سچائی ہے اس کا فیصلہ لیتھوینیا ہی کرے گا۔

اُدھر کونسل آف یورپ کے ایک اعلیٰ عہدے دار ڈِک مارٹی نے لیتھوینیا سمیت ان الزامات کا سامنا کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان دعووں کی تحقیق کریں۔ ڈِک مارٹی کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ اس شرم ناک سلسلے میں اپنا کردار واضح کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد کا غیرمنصفانہ نظریہ حقائق چھپانے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ ڈِک مارٹی نے کہا ہے کہ محض تردید اور راہ فرار سے کام نہیں چلے گے بلکہ یورپی ممالک کو ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے ہاتھ صاف ہیں۔

امریکی تفتیش کار ادارے 'سی آئی اے' کے متنازعہ طریقہ تفتیش پر امریکی اٹارنی تفتیش کے لئے ایک خصوصی استغاثہ مقرر کر چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید