1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

حلب کی جنگ بیس لاکھ شامیوں کی زندگی کا سوال

امتیاز احمد9 اگست 2016

اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی شہر حلب میں جاری شدید لڑائی کے باعث بیس لاکھ سے زائد شہری مکمل محاصرے کے خطرے سے دوچار ہیں اور اس شہر میں فوری جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے۔

https://p.dw.com/p/1Jedt
Syrien - Zerstörtes Aleppo 2016
تصویر: Getty Images/AFP/K. Al-Masri

حالیہ چند دنوں میں شام کا اسٹریٹیجک حوالے سے اہم شہر حلب بموں اور شدید لڑائی سے لرز کر رہ گیا ہے۔ اس شہر کے کچھ حصے اسد مخالف باغی کنٹرول کر رہے ہیں جبکہ کچھ حصے حکومتی فورسز کے ہاتھوں میں ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے حکومتی فورسز اور اسد مخالف باغیوں کے مابین لڑائی کا سلسلہ شدید تر ہو چکا ہے اور فریقین ایک دوسرے کے سپلائی روٹ کاٹنے اور ان پر قبضہ کرنے کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اب صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس عالمی ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شہر کے بیس لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور وہ جنگی فریقین کے محاصرے میں پھنس کر رہ جائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ حلب کے مشرقی حصے میں اس وقت دو لاکھ پچھہتر ہزار افراد پہلے ہی پھنس چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ چند دنوں کے دوران حلب میں کم از کم ایک سو تیس عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور تاحال جاری لڑائی کی وجہ سے ہسپتالوں، چھوٹے شفا خانوں اور بجلی اور پانی کی فراہمی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے اس بیان میں مزید کہا ہے، ’’اقوام متحدہ مصائب کے شکار شہر حلب کے شہریوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘

Syrien - Zerstörtes Aleppo 2016
چند برس پہلے تک حلب کا شمار شام کے معاشی لحاظ سے طاقتور ترین شہروں میں ہوتا تھا لیکن اب یہ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہےتصویر: Getty Images/AFP/G. Ourfalian

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کو کم از کم مکمل طور پر فائربندی کی ضرورت ہے یا ایک ہفتے میں کم از کم اڑتالیس گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کی جائے تاکہ حلب کے لاکھوں ضرورت مند شہریوں تک پہنچا جا سکے۔ حلب بھر میں خوراک اور ادویات کا اسٹاک خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔‘‘

چند برس پہلے تک حلب کا شمار شام کے معاشی لحاظ سے طاقتور ترین شہروں میں ہوتا تھا لیکن اب یہ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس شہر میں جون کے اواخر میں دو طرفہ لڑائی کی شدت میں اس وقت اضافہ ہو گیا تھا، جب حکومتی فورسز نے اس آخری راستے کو بھی بند کر دیا تھا، جو باغیوں کے زیرکنٹرول علاقے کو دیگر علاقوں سے ملاتا تھا۔

اسد حکومت کی فورسز کی اس پیش قدمی کی وجہ سے حلب کے مشرقی حصے میں غذائی قلت پیدا ہو گئی تھی اور اشیائے خوراک کی قیمتیں ایک دم آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں۔

گزشتہ ہفتے ایک دوسرا بڑا واقعہ یہ رونما ہوا کہ باغیوں، اسلام پسندوں اور جہادیوں کے ایک اتحاد نے اس حکومتی سپلائی روٹ پر قبضہ کر لیا تھا، جو اس شہر کے جنوبی حصے کو دیگر حصوں سے ملاتا ہے۔

فریقین ان راستوں کو اپنے لیے خوراک کی سپلائی کے لیے استعمال تو کر رہے ہیں لیکن ان راستوں پر آمد و رفت انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہے اور عام شہریوں کو ابھی تک یہ راستے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سن دو ہزار گیارہ کے بعد سے شام میں دو لاکھ نوے ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔