1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

WHO

16 مئی 2011

سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں عالمی ادارہء صحت WHO کے رکن ملکوں کا ایک اجلاس ہر پانچ سال بعد ہوتا ہے، جو ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کہلاتا ہے۔ ایسا ہی ایک اجلاس آج پیر کی شام سے جنیوا میں شروع ہو رہا ہے، جو 24 مئی تک جاری رہے گا۔

https://p.dw.com/p/11HEd
مارگریٹ چَن، پس منظر میں عالمی ادارہء صحت کا لوگوتصویر: AP

اس اسمبلی میں اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ذیلی ادارے کے بارے میں بہت سے فیصلے کیے جانے کی توقع ہے۔ یوں عالمی ادارہء صحت اگلے ایک ہفتے سے بھی زائد عرصے تک اپنے ہی بارے میں بہت سے بنیادی اور تنظیمی فیصلوں میں مصروف رہے گا۔ اپنی نوعیت کی صحت سے متعلق اس 64 ویں عالمی اسمبلی میں ڈبلیو ایچ او میں اصلاحات کو اجلاس کے ایجنڈے میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

Ein dicker Mann 2
موٹاپا اکثر واقعات میں ذیا بیطس کی وجہ بنتا ہےتصویر: picture alliance/dpa

ڈبلیو ایچ او نے سوائن فلو کی بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر جس سب سے شدید خطرے کا اعلان کیا تھا، اسے اب قریب دو سال ہونے کو ہیں۔ بہت سے ماہرین نے تب اس اعلان پر یہ کہتے ہوئے شدید تنقید کی تھی کہ ڈبلیو ایچ او نے سوائن فلو سے متعلق اپنی انتہائی حد تک وارننگ جاری کرنے میں بہت جلد بازی کی تھی۔ بعد میں بین الاقوامی سطح پر سوائن فلو کی یہ وباء قدرے بےضرر انداز میں ختم بھی ہو گئی تھی۔

اس پس منظر میں عالمی ادارہء صحت پر یہ الزام بھی لگائے گئے تھے کہ اس نے مبینہ طور پر بڑی بڑی بین الاقوامی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ ساز باز کی تھی۔ ان الزامات کی چند ہفتے قبل ایک تحقیقاتی کمیشن نے چھان بین بھی کی، جو ڈبلیو ایچ او کی خاتون سربراہ مارگریٹ چَن نے قائم کیا تھا اور جس نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا۔

ما‌ضی کے ان تجربات کے تناظر میں اب عالمی ادارہء صحت کی رکن بہت سی ریاستیں یہ مطالبے کر رہی ہیں کہ ڈبلیو ایچ او کو اپنی کارکردگی کو زیادہ شفاف بنانا چاہیے اور اپنے لیے مالی وسائل کے حصول کو دیرپا بنیادوں پر یقینی بنانے کی کوششیں بھی کرنی چاہییں۔ اس لیے مارگریٹ چَن ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے دوران اصلاحات سے متعلق ایک تفصیلی ایجنڈا پیش کریں گی، جو WHO کی رکن ریاستوں کی خواہش پر تیار کیا گیا ہے۔

Schweinegrippe Mexiko
سوائن فلو کی بین الاقوامی وباء کے دوران میکسیکو میں لی گئی ایک تصویرتصویر: AP

صحت سے متعلق اس عالمی اسمبلی میں ایک دوسرا بڑا موضوع غیر متعدی امراض، مثلا ﹰ ذیابیطس اور سرطان جیسی بیماریوں کا تدارک اور ان کے خلاف جدوجہد بھی ہو گی۔ بین الاقوامی سطح پر ان بیماریوں کے واقعات میں گزشتہ برسوں کے دوران بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے ادارہء صحت کے رکن ملکوں کو بہت سے اقتصادی اور سماجی مسائل کا سامنا بھی ہے۔ اس لیے 64 ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں مندوبین اس بارے میں تفصیلی بحث کریں گے کہ ایسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔

اس اجلاس میں جاپان میں زلزلے اور سونامی لہروں سے متاثرہ فوکو شیما کے ایٹمی بجلی گھر سے تابکاری شعاعوں کے اخراج کے بارے میں بھی بھرپور تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ کل منگل کے روز اس اجلاس میں مائیکروسافٹ کے بانی اور امریکی ارب پتی بل گیٹس بھی ممکنہ طور پر شرکت کریں گے۔ وہ اس اسمبلی کے شرکاء سے درخواست کریں گے کہ مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی خاطر حفاطتی ٹیکوں کے منصوبوں کے لیے زیادہ مالی وسائل مہیا کیے جانے چاہییں۔

رپورٹ: پاسکال لیشلر / مقبول ملک

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں