1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جمہوری الیکشن آمریت کے سائے میں

20 جون 2018

اس بار کے الیکشن پاکستان، جنوبی ایشیائی خطے سمیت عالمی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل تصور کیے جا رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ یہ اور چند دیگر اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے شعبہ اُردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ کا تبصرہ۔

https://p.dw.com/p/2zv5Q
Wahlen in Pakistan 2013 Symbolbild Hochrechnung
تصویر: FAROOQ NAEEM/AFP/Getty Images

بیس کروڑ کی آبادی والے جنوبی ایشیائی ملک پاکستان کی سیاسی تاریخ غیر معمولی نشیب و فراز سے عبارت ہے۔ وجود میں آنے کے اکہتر سال بعد بھی ملکی سیاسی نظام بُری طرح ڈگمگاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان سات دہائیوں کے دوران پاکستان میں بارہ مرتبہ عام انتخابات کا انعقاد ہو چُکا اور اب تیرہویں بار پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔

الیکشن 2018 ء انتہائی غیر یقینی کے سائے میں

پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ میں 31 سال اس ملک پر آمریت کے سیاہ بادل چھائے رہے ہیں۔ مارشل لاء کے ان ادوار میں ملک اقتصادی، سیاسی اور سماجی اعتبار سے تو کمزور ہوا ہی لیکن جس چیز نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط نہ ہونے دیا اُس کا تعلق جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فقدان سے ہے۔ آمریت کا غلبہ اور معاشرے کے ہر شعبے میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا غیر معمولی کردار دراصل بہت سے سیاسی مسائل کی وجہ بنا۔ اس دوران جمہوری اداروں اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کی جمہوریت کے فروغ کی کوششوں کو بری طرح دبایا جاتا رہا یہاں تک کہ پاکستانی معاشرے میں جمہوری سوچ اور اقدار پھلنے پھولنے ہی نہیں پائی۔

پاکستان کے اکثریتی عوام ایک طرف تعلیم کی شدید کمی اور تعلیمی معیار کے پست ہونے کے سبب اپنے سیاسی شعور سے بیگانہ ہیں تو دوسری جانب جو محدود تعلیم یافتہ طبقہ ہے وہ یا تو غم روزگار اور اپنے روزمرہ زندگی کے مسائل میں اس قدر گہرا ہوا ہے کہ اُسے معاشرے کے سیاسی دھارے کی سمت پر توجہ مرکوز کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا یا پھر جو آٹے میں نمک کے برابر سیاسی طور پر باشعور افراد ہیں انہیں ملک و قوم کے ساتھ مخلص اور ایماندار سیاسی قیادت کے سخت فقدان کا سامنا ہے۔

Deutsche Welle Urdu Kishwar Mustafa
ایسی صورتحال میں غیر ملکی مبصرین ہی شاید بتا سکیں کے انتخابات کتنے آزاد اور شفاف ہوں گے۔ ’اگر ان کا انعقاد عمل میں آیا‘، کشور مصطفیتصویر: DW/P. Henriksen

 پاکستان میں اب تک برسراقتدار رہنے والی سیاسی جماعتیں ہوں یا خود کو عوامی لیڈر کہلانے والے کٹھ پتلی سیاستدان، عوام کا بھروسہ ہر کسی پر سے اُٹھ چُکا ہے۔ ان سیاستدانوں اور حکومتوں کی نا اہلی اور ان کے اندر پائی جانے والی ناقابل یقین حد تک بدعنوانی پوری قوم کے لیے المیہ ہے۔ ایسے میں اس بار کے الیکشن کا انعقاد میڈیا کے تقریباً مکمل ’بلیک آؤٹ‘ میں ہو رہا ہے۔ عوام تک جو خبریں اور اطلاعات پہنچ رہی ہیں وہ پوری طرح سنسرڈ ہیں۔ عوام کی رائے کیا معنی رکھتی ہے، یہاں تو صرف سیاسی توڑ جوڑ اور مفادات کی جنگ جاری ہے۔ کون سا لیڈر کس وقت گرگٹ کی طرح رنگ بدلے گا اور کس کی وفاداری کب اور کس کے خلاف یا کس کے حق میں پلٹ جائے گی اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا یا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

 

الیکشن اور چیلنجز

ایک سول حکومت سے دوسری سول حکومت تک اقتدار کی منتقلی کو جہاں پاکستان کے تناظر میں ایک خوش آئند اور مثالی عمل قرار دیا جا رہا ہے وہاں بہت سے ایسے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں جن کا تعلق اُن چیلنجز سے ہے جس پر پورا اترنے میں اب تک برسر اقتدار آنے والی تمام حکومتیں ناکام ہی نظر آئی ہیں۔  2018 ء کے مجوزہ الیکشن ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب تازہ ترین اندازوں کے مطابق پاکستان بھر میں قریب 23 ملین بچے اسکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ خاندانوں کی ماہانہ آمدنی کا نہایت محدود ہونا، ان بچوں کی رہائش کا ایسی جگہوں پر ہونا جہاں تعلیمی مدارس دور دور نہیں پائے جاتے اور تعلیمی میدان میں صنفی امتیاز بھی ہے۔

Pakistan Wahl Anhänger PMLN
تصویر: Reuters/M. Raza

جنوبی ایشیائی خطے میں پاکستان ’جینڈر اینرولمنٹ گیپ‘ کے ضمن میں ایسے ممالک کی فہرست میں افغانستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اگر اس بار کے انتخابات سے یہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں کہ یہ موجودہ صورتحال میں تبدیلی کا سبب بنیں گے تو پھر عوام کو ایسے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو نہ صرف تعلیم کو عام کرنے کے عزم کو اپنے سیاسی منشور کا اہم ترین حصہ بنائیں بلکہ واقعتاً پاکستان کے ہر بچے کو تعلیمی حق مہیا کرنے کو اپنا اوّلین فرض سمجھیں۔  ملک میں بجلی اور پانی کے بحران سے نمٹنے کی نہ صرف صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ عملی طور پر اس کے لیے کچھ کر کے بھی دکھائیں۔

 

انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال

سال رواں میں منظر عام پر آنے والے اقوام متحدہ کے ’’یونیورسل پیریوڈک ریویو ‘‘ کے مطابق انسانی  حقوق کی پامالی کے ضمن میں پاکستان کی ساکھ بہت ہی کمزور ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ ہزاروں پاکستانی شہریوں کو جبری طور پر غائب کر دیے جانے کا عمل ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کو جبری طور پر غائب کرنے کے واقعات دراصل چند بہیمانہ ترین حکومتوں کی تاریخ کے سیاہ ابواب میں ملتے ہیں۔

ان عوامل کے پیچھے کون سے عناصر کار فرما ہیں؟ یہ کھلا راز ہے جس کے خلاف سیاسی پارٹیاں بھی  ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ہر طرف ’خلائی مخلوق‘ کا ذکر کیا جا رہا ہے اور ایک طرح سے ان کا خوف بھی معاشرے پر طاری ہے۔

 2018 ء کے الیکشن سیاسی جماعتوں کے لیے ایک موقع بھی ہیں یہ ثابت کرنے کا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خاص طور سے پاکستانی شہریوں کو جبری طور پر لا پتہ کر دیے جانے کے عمل کے خلاف وہ نہ صرف گھٹی ہوئی آواز کا سہارا لے رہے ہیں بلکہ 2018 ء کے الیکشن کے اُن کی پارٹی منشور میں اس بارے میں باقائدہ ’بلیو پرنٹ‘ بھی موجود ہے۔

اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ تین بڑی جماعتوں پی ایم ایل ’ن‘ پی پی پی اور پی ٹی آئی میں سے محض پیپلز پارٹی کے گزشتہ منشور میں شہریوں کے جبری غائب کیے جانے کا سرسری طور پر ذکر موجود تھا۔

علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز

ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے الیکشن سے چند ہی دنوں پہلے عین ممکن ہے کہ پاکستان کے نام کی گرے لسٹ میں شمولیت کی تصدیق ہو جائے   پاکستان ایک طرف افغانستان اور دوسری جانب بھارت کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کی معاونت کے ضمن میں غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ کی جانب سے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے کہا گیا تھا، اسلام آباد حکومت نے اس سلسلے میں اقدامات کیے بھی ہیں اور اس حوالے سے آرڈیننس بھی جاری کیا گیا لیکن کیا یہ اقدامات کافی ثابت ہوں گے؟

Pictureteaser Wahlen Pakistan Urne

ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان اور پاکستان کی بابت نئی اسٹریٹیجی میں یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ امریکا اب پاکستان کو روایتی دوست کی حیثیت سے نہیں دیکھتا اور اب بین الاقوامی بساط پر بازی دیگر مہروں کے ساتھ کھیلی جا رہی ہے۔ پاکستان کو اندرون ملک فرقہ واریت، نسلی اور اقلیتی تقسیم اور انتہا پسندی کے رجحانات میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب یہ ریاست دو علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں ایران اور سعودی عرب کے مابین ’سینڈوچ‘ بنا ہوا ہے۔

فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا بھرپور جھکاؤ سعودی عرب کی طرف ہے اور سیاسی لیڈروں کو بھی بہت حد تک اسی سمت چلنے میں اپنی عافیت نظر آ رہی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں ایران کی بھارت کے ساتھ قربت و دوستی کیا پاکستان کو مہنگی نہیں پڑے گی ؟ ایک طرف افغانستان ہے جہاں سے بھارت کے بہت زیادہ مفادات جُڑے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی اور کابل حکومت کے باہمی تعلقات روز بروز مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں یہاں تک کہ گزشتہ دسمبر میں خلیج فارس کے قریب ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کے پہلے مرحلے کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس طرح پاکستان کو الگ کرتے ہوئے ایران ،بھارت اور افغانستان کے درمیان حکمت عملی کے ایک نئے سلسلے نے جنم لیا۔ چاہ بہار بحیرہ ہند سے مربوط کرنے والا سب سے قریبی سمندری راستہ ہے جو پاکستان کی بندرگاہ گوادر کا حریف ہوگا، جس کی تعمیر میں چین کی طرف سے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

الیکشن اور میڈیا کا کردار

پاکستان میں میڈیا پر جس طرح کا اعتاب نازل ہوا ہے وہ مثالی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں تمام تر نجی ٹی وی چینلز کیبل آپریٹرز کے مرہون منت ہوں، وہاں حال ہی میں جیو جیسے مقبول ترین چینل کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آئے دن صحافیوں اور سول سوسائٹی کے سرگرم عناصر کو اغوا کرنے کے واقعات نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مزید کمزرور کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں غیر ملکی مبصرین ہی شاید بتا سکیں کے انتخابات کتنے آزاد اور شفاف ہوں گے۔ ’اگر ان کا انعقاد عمل میں آیا‘۔                                                                           

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں