1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شٹائن مائر کا قیام امن کے لیے دو ریاستی حل پر زور

عاطف بلوچ31 مئی 2015

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران زور دیا ہے کہ دو ریاستی حل کی کوشش کے لیے مشرق وسطیٰ امن مذاکرات بحال ہونے چاہییں۔ وہ کل بروز پیر غزہ پٹی کا دورہ بھی کریں گے۔

https://p.dw.com/p/1FZqS
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائرتصویر: picture-alliance/dpa/Thomas Imo/Photothek.net

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے اتوار کے دن یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی فلسطینی مذاکراتی سلسلہ بحال ہونا چاہیے تاکہ تنازعات کا خاتمہ ممکن بناتے ہوئے امن کی طرف بڑھا جا سکے۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کی تائید کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر امن مذاکرات کی بحالی کے لیے رضا مندی بھی ظاہر کی۔

جرمن وزیر خارجہ اور اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی ملاقات میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور بھی کیا۔ بینجمن نیتن یاہو نے اس ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں صرف براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے فلسطینی اتھارٹی مذاکراتی عمل کے راستے سے ہٹ گئی ہے۔‘‘ تاہم دوسری طرف فلسطینی حکام کے مطابق ان مذاکرات کی تعطلی کا سبب اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں ہیں۔

امن مذاکرات کا تازہ سلسلہ اپریل 2014ء میں ناکام ہو گیا تھا۔ اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں کٹر نظریات کے حامل سیاسی اتحاد کی طرف سے حکومت سازی کے بعد اس مذاکراتی عمل کی کامیابی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق فریقین کے مابین عدم اعتماد کے سبب سے اس سلسلے میں رکاوٹیں حائل ہیں۔

نیتن یاہو نے شٹائن مائر کے ساتھ گفتگو میں زور دیا کہ امن مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے میں کوئی شرط عائد نہیں کی جانا چاہیے۔ شٹائن مائر سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ فلسطینیوں کو بتا دیں کہ وہ اسرائیلی ریاست کو غیر قانونی قرار دینے کی مہم ختم کر دیں۔ ان سے کہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر لوٹ آئیں۔ ان سے کہیں کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ شرائط کے بغیر شروع کیا جائے۔‘‘

Frank-Walter Steinmeier mit Rami Hamdallah in Ramallah
جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر نے فلسطینی وزیراعظم رامی حمد اللہ سے بھی ملاقات کیتصویر: Getty Images/AFP/A. Momani

دوسری طرف رملہ میں فلسطینی وزیر اعظم رامی حمد اللہ نے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات پر تیار ہیں لیکن اس مقصد کے لیے اسرائيل کو يہودی آباد کاری کا سلسلہ روکنا ہو گا جبکہ سن 1967 کے سرحدی معاہدے کے مطابق دو ریاستی حل سے متفق ہونا پڑے گا۔ جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران حمد اللہ نے کہا کہ اسرائیل دو ریاستی حل کے تحت مشرقی یروشلم کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرے۔

جرمن وزیر خارجہ نے اس دورے کے دوران غزہ پٹی کی صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور کہا کہ وہ پیر کے دن حماس کے قبضے والے اس علاقے کا دورہ بھی کریں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ غزہ پٹی میں اعلیٰ مغربی سفارتکار کم ہی جاتے ہیں، اس لیے ان کے اس دورے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران زور دیا ہے کہ غزہ پٹی میں فلسطینیوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

شٹائن مائر نے اس موقع پر اسرائیل میں حماس کے راکٹ حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انہوں نے البتہ کہا کہ غزہ پٹی میں تعمیر نو کے کاموں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس حماس اور اسرائیل کے مابین ہونے والی جنگ میں غزہ پٹی کو شدید نقصان پہنچا تھا اور وہاں ابھی تک روزمرہ زندگی معمول پر نہیں آ سکی ہے۔ جرمن وزیرخارجہ غزہ میں قیام کے دوران حماس کے کسی بھی رہنما سے ملاقات نہیں کریں گے۔