1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن جمہوریت مستحکم ہے، گاؤک

صائمہ حیدر20 جون 2016

جرمن صدر یو آخم گاؤک نے کہا ہے کہ مہاجرین مخالف کارروائیوں اور رد عمل کے باوجود جرمنی میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہیں۔

https://p.dw.com/p/1JA8P
ARD Bericht aus Berlin Joachim Gauck
گاؤک نے پناہ گزینو‌ں پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی ہےتصویر: ARD

ایک ریڈیو انٹرویو میں جرمنی کے صدر گاؤک کا کہنا تھا کہ مضبوط جرمن ادارے اور سول سوسائٹی دائیں بازو کی سوچ رکھنے والی جماعت اے ایف ڈی کی طرف کسی بھی عوامی مہم کو محدود کر کے جمہوریت کی حفاظت کرے گی۔

گاؤک نے پناہ گزینوں پر دائیں بازو کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی پناہ گزینوں پر دائیں بازو کی حامل قوتوں کے شدید ردِعمل اور حملوں میں اضافے کے باوجود ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اتوار کے روز دیے جانے والے اس انٹرویو میں گاؤک نے موجودہ جمہوری نظام کے پہلی عالمی جنگ کے بعد وائیمار ریپبلک کے منقسم اور عدم استحکام سے عبارت سیاسی نظام کے ساتھ کسی بھی قسم کے موازنے کو رد کرتے ہوئے کہا، ’’اب ہمارے پاس کام کرنے والے ادارے، بہترین آئین اور ایک ایسی مضبوط سول سوسائٹی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔‘‘

جرمنی میں پناہ گزینوں پر کیے جانے والے حالیہ قابل مذمت حملوں کے تناظر میں صدر گاؤک نے ان جرمن شہریوں کی طرف بھی اشارہ کیا جو غیر ملکیوں سے نفرت کا مظاہرہ کرنے والوں کے بر عکس مختلف معاملات میں مہاجرین کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ جرمنی کو مہاجرین کے بحران کے حوالے سے یورپ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

Griechenland Radiosender für Flüchtlinge im Flüchtlingslager
جرمنی کو مہاجرین کے بحران کے حوالے سے یورپ میں مرکزی حیثیت حاصل ہےتصویر: DW/K Jovanovski

جرمنی میں دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاسی جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی کی حمایت میں اضافے اور مہاجرین پر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں پیدا ہونے والا بحران یورپی اتحاد کا امتحان ہے اور اٹھائیس رکنی یورپی بلاک کو شک کی نظر سے دیکھنے والی جماعتوں کو قوت حاصل ہوئی ہے۔ برطانیہ میں یورپی یونین کی رکنیت رکھنے یا نہ رکھنے پر ریفرنڈم کے تناظر میں جرمن صدر نے کہا کہ سیاسی لیڈروں کو یورپی یونین میں شامل رہنے کے فوائد سے اپنے شہریوں کو آگاہ کرنا ازحد ضروری ہے۔ گاؤک کے مطابق پولستانی اور برطانوی عوام میں سے کچھ کا خیال ہے کہ یونین نے ان کے قومی تشخص کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انہوں نے اِن افراد کو ایک متحدہ یورپ کے نظریے کی حفاظت کے لیے ساتھ لے کر چلنا بہت ضروری قرار دیا۔

جرمنی کے بیشتر افراد کو امید تھی کہ اعتدال پسند سیاست دان یوآخم گاؤک اپنے ہنگامہ خیز دور صدارت کی پہلی مدت کے بعد دوسری مرتبہ بھی رہنمائی کے لیے موجود ہوں گے لیکن انہوں نے مزید صدر رہنے کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ایک طرح سے گاؤک کی طرف سے اشارہ ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں ملکی ادارے ان کے بغیر بھی معمول کی طرح فعال رہیں گے۔