1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

میرکل کا جرمنی کے اضافی تجارتی حجم کا دفاع

18 مارچ 2018

انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جرمنی کے اضافی تجارتی حجم کا مطلب ہے کہ جرمن مصنوعات کی طلب زیادہ ہے۔ جرمن وزیر اقتصادیات جلد واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ ٹیکسوں میں اضافے کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔

https://p.dw.com/p/2uXjt
Bundeskanzlerin Angela Merkel  Kabinettssitzung
تصویر: picture-alliance/dpa/K. Nietfeld

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے اسٹیل اور ایلومینیئم پر نئے ٹیکس لاگو کرنے پر  امریکی حکومت اور اس کے تجارتی پارٹنر ممالک کے درمیان تناؤ موجود ہے۔ ایسے میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے آج اتوار 18 مارچ کو جرمنی کے اضافی تجارتی حجم کا دفاع کیا ہے۔ میرکل نے اپنے ہفتہ وار ویڈیو پوڈ کاسٹ میں کہا، ’’اضافی تجارتی حجم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری مصنوعات کی طلب ہے۔ اور قدرتی بات ہے کہ ہم مستقبل میں بھی اسے قائم رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

تاہم میرکل نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ملک میں داخلی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ کے سبب جرمنی کا اضافی تجارتی حجم وقت کے ساتھ کم ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ سال 2017ء کے دوران جرمنی کا اضافی تجارتی حجم 244 بلین یورو تھا جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ حجم 248 بلین یورو رہا تھا۔

جرمن چانسلر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کے حوالے سے کرنسی کی شرح تبادلہ میں آنے والا رد وبدل بھی ٹریڈ سرپلس یا اضافی تجارتی حجم کی وجہ بنا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ کچھ عرصے کے دوران جرمنی کے کافی زیادہ ٹریڈ سرپلس کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے قبل جب یہ اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا میں درآمد کیے جانے والے اسٹیل پر 25 فیصد جبکہ ایلومینیئم پر 10 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر رہے ہیں تو امریکا کے کئی اتحادی ممالک کی طرف سے اس پر شدید ردعمل اور تحفظات سامنے آئے تھے۔ امریکی معاشی حلقوں نے بھی اس پیشرفت کو امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا خاص طور پر ان کمپنیوں اور ان میں کام کرنے والے ورکرز کے لیے جن کا زیادہ تر انحصار درآمد شدہ مصنوعات پر ہے۔

امریکی صدر کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں تجارتی جنگ کے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی امریکی منصوعات کی درآمد پر ٹیکس عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ان میں خاص طور پر وہسکی،  جینز اور موٹر سائیکل وغیرہ شامل ہیں۔

جرمن وزیر اقتصادیات پیٹر آلٹمائیر آج اتوار 18 مارچ کو امریکا روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ امریکی حکومت کے ساتھ جرمنی کو ان تجارتی  ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کے لیے بات چیت کریں گے۔