1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بریوک 21 برسوں کے لیے سلاخوں کے پیچھے

24 اگست 2012

اوسلو کی ایک عدالت نے گزشتہ برس ایک بم حملے اور فائرنگ کے ذریعے 77 افراد کو قتل کرنے والے دائیں بازو کے انتہا پسند آندرس بہرنگ بریوک کو درست ذہنی توازن کا حامل قرار دیتے ہوئے 21 برس کی سزائے قید کا حکم سنایا ہے۔

https://p.dw.com/p/15vzb
تصویر: Reuters

ناروے کے دارالحکومت اوسلو اور ایک چھوٹے سے جزیرے یوٹویا پر کیے جانے والے ان حملوں میں، جو کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس ملک میں تشدد کی بد ترین کارروائی تھے، 240 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ زیادہ تر مرنے والے نو عمر لڑکے لڑکیاں تھے، جن میں سے کئی ایک 14 برس کے بھی تھے۔

اپنے آج جمعے کے فیصلے کے ذریعے عدالت نے بریوک کو اکیس سال کی سزا سنائی ہے، جو کہ ناروے میں کسی بھی جرم کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ سزا ہے۔ اس سزا میں مزید توسیع کے بھی امکانات رکھے گئے ہیں۔

دس ہفتوں تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد سنائے گئے اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے استغاثہ کی اس درخواست کو رَد کر دیا کہ بریوک کا دماغی توازن درست نہیں ہے اور اُسے کسی نفسیاتی کلینک میں بھیجا جانا چاہیے۔ خود بریوک نے مقدمے کی سماعت کے دوران کئی مرتبہ یہ کہا تھا کہ وہ ذہنی طور پر تندرست ہے اور اگر اُسے دماغی خلل کا شکار قرار دیا گیا تو یہ بات اُس کے لیے ’موت سے بھی بدتر‘ ہو گی۔

بریوک کا اصرار تھا کہ وہ دماغی طور پر تندرست ہے اور اگر اسے دماغی خلل کا شکار قرار دیا گیا تو یہ بات اُس کے لیے موت بھی بدتر ہو گی
بریوک کا اصرار تھا کہ وہ دماغی طور پر تندرست ہے اور اگر اسے دماغی خلل کا شکار قرار دیا گیا تو یہ بات اُس کے لیے موت بھی بدتر ہو گیتصویر: Reuters

بریوک کے ہاتھوں مرنے والوں کے لواحقین اور گزشتہ برس 22 جولائی کے ہولناک حملوں میں زندہ بچ رہنے والے بھی یہی چاہتے تھے کہ عدالتی فیصلے میں بریوک کو دماغی طور پر تندرست قرار دیا جائے۔ اُن کا کہنا یہ تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اِن حملوں کی ذمے داری سے بچ جائے گا۔

33 سالہ بریوک نے اعتراف کیا تھا کہ اُس نے پہلے ایک فرٹیلائزر بم کے ذریعے اوسلو میں حکومتی ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ اس بم حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد بریوک نے ایک قریبی جزیرے یوٹویا پر جا کر حکمران جماعت کے یوتھ کیمپ پر فائرنگ کرنے کا بھی اعتراف کیا، جس کے نتیجے میں 69 افراد موت کا شکار ہوئے تھے۔

بریوک کو اوسلو کے مضافات میں واقع ایک جیل میں باقی قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا جائے گا
بریوک کو اوسلو کے مضافات میں واقع ایک جیل میں باقی قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا جائے گاتصویر: Reuters

ناروے کے حکام بریوک کی 21 برسوں کی سزا پوری ہونے کے بعد بھی اگر یہ سمجھیں کہ وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے، تو اُسے غیر معینہ مدت تک کے لیے سلاخوں کے پیچھے رکھ سکتے ہیں۔

اسلام مخالف بریوک کو اوسلو کے مضافات میں واقع Ila جیل میں دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا جائے گا۔ اس جیل کی کوٹھڑیاں قدرے کشادہ ہیں اور وہاں ورزش کے لیے ایک الگ کمرے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور ٹیلی وژن کی بھی سہولت ہو گی۔

بریوک نے اپنی ہولناک کارروائی کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ بائیں بازو کی اعتدال پسند جماعت لیبر پارٹی مسلمان تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جان بوجھ کر نارویجن قوم کو تباہ کر رہی ہے۔

(aa/ab(reuters