1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’برادر نسبتی کے علاج کے لیے بیٹی بیچ دی‘

5 مئی 2018

افغانستان میں ایک خاتون نے اپنے برادر نسبتی کے علاج کی خاطر اپنی پانچ ماہ کی بیٹی کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس شورش زدہ ملک میں غربت کی وجہ سے حالات انتہائی ابتر ہیں اور معیار زندگی بدحالی کی طرف مائل ہے۔

https://p.dw.com/p/2xE6g
Symbolbild Eltern Kind Beziehung
تصویر: Colourbox/I. Belousa

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ غربت سے تنگ آئی ہوئی بیس سالہ خاتون عبیدہ قیصری نے اپنی پانچ ماہ کی بیٹی کو فروخت کر دیا۔ اس خاتون نے بتایا ہے کہ بیٹی کو بیچنے سے جو رقم حاصل ہوئی تھی، اس سے وہ اپنے بردار نسبتی کا علاج کرنا چاہتی تھی۔

افغانستان کی ’لامتناہی جنگ‘ کا ایندھن بننے والے بچے

بہتر زندگی کے خواب کی بھیانک تعبیر

افغان بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں اندیشہ

انہوں نے بتایا کہ ان کے بردار نسبتی کو بلڈ کینسر کا عارضہ لاحق ہے۔ تاہم فریاب صوبے کے امیر طبقے کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے پیسے ادا کر کے قیصرہ کی بیٹی کو ان کے پاس واپس لوٹا دیا۔

قیصرہ نے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غربت اور بردار نسبتی کی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے اس کے گھر والوں نے اسے اپنی بیٹی کو فروخت کرنے پر مجبور کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس ماں نے 420 ڈالر کے عوض اس بچی کو فروخت کیا۔ قیصرہ نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ علاج کے بعد ان کے بردار نسبتی کی طبعیت بہتر ہو جائے گی۔

قیصرہ نے مزید کہا کہ بیٹی کو فروخت کرنے کا فیصلہ بہت سخت تھا، ’’میں کئی دن تک روتی رہی، میں ہر پل اپنی نوزائیدہ بیٹی کو یاد کرتی رہی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا شوہر بے روزگار ہے اور ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔

فریاب صوبے کی رہائشی قیصرہ نے ہفتے کے دن بتایا کہ یہ بچی پانچ روز قبل ایک ایسے گھرانے کو فروخت کی گئی تھی، جس کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔

فریاب صوبے کے گورنر کے ترجمان نے بتایا ہے کہ جب یہ خبر عام ہوئی تو حکام اور صوبے کے امیر افراد نے مداخلت کرتے ہوئے رقوم ادا کر کے جمعے کے دن قیصرہ کو ان کی بیٹی لوٹا دی۔

افغانستان میں شورش کی وجہ سے وہاں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی عروج پر ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق اس وسطی ایشیائی ملک میں کام کر سکنے والے افراد میں بے روزگاری کی شرح چالیس فیصد سے زائد ہے۔

ع ب / ع ح / ڈی پی اے