1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

باپ نے بوکوحرام کے حوالے کیا، تیرہ سالہ بچی کا انکشاف

عاطف توقیر26 دسمبر 2014

نائجیریا کے شمالی شہر کانو میں ایک دہشت گردانہ واقعے میں خود کو دھماکا خیز مواد کے ساتھ اڑانے سے انکار کر دینے والی ایک تیرہ سالہ بچی نے پولیس کو بتایا ہے کہ اسے اس کے باپ نے شدت پسند گروہ بوکوحرام کے حوالے کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/1EAAD
Nigeria Anschlag 28.11.2014
تصویر: Reuters

واضح رہے کہ نائجیریا کے دوسرے سب سے بڑے شہر کانو میں شدت پسند گروہ بوکوحرام نے خودکش بمبار لڑکیاں بھیجی تھیں، جن میں سے ایک لڑکی نے اپنے وجود سے بندھا دھماکا خیز مواد تباہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اسے بعد میں سکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

حالیہ مہینوں میں نائجیریا نے دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان میں متعدد حملوں میں خودکش بمبار یا تو خواتین تھیں یا بچیاں۔ ان حملوں کے بعد نائجیریا میں لوگوں نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ ممکنہ طور پر شدت پسند تنظیم بوکوحرام اغوا کی گئی بچیوں کو استعمال کر رہی ہے۔

بدھ کی رات ایک نیوز کانفرنس میں اس تیرہ سالہ بچی نے بتایا کہ اس نے بوکوحرام کے ایک کمیپ میں کئی افراد کو زندہ دفن کرنے کے مناظر دیکھے۔ اس بچی کا کہنا تھا کہ اسے اس کا باپ کانو کے مشرق میں باؤچی ریاست کے ایک جنگلاتی علاقے میں بوکوحرام کے ایک مرکز میں لے گیا اور وہاں اسے عسکریت پسندوں کے حوالے کر دیا گیا۔

اس بچی کا کہنا تھا کہ اسے اپنے پاس رکھنے والوں نے اس سے پوچھا، ’’کیا تم جنت میں جانا چاہتی ہو۔ جس کے جواب میں نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا کہ تمہیں اس کے لیے بم دھماکا کرنا ہو گا اور مرنا ہو گا مگر میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتی۔‘‘

اس لڑکی کا مزید کہنا تھا، ’’ اس پر ان مسلح افراد نے مجھے قتل کی دھمکی دی، جس پر میں نے انہیں اپنے وجود سے دھماکا خیز مواد سے بھری جیکٹ باندھنے دی۔ کیوں کے مجھے زندہ دفن کر دیے جانے کا خوف تھا۔‘‘

واضح رہے کہ دس دسمبر کو کانو میں کپڑے کی ایک مارکیٹ میں اس لڑکی کے ہمراہ دیگر دو بچیوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، تاہم اس بچی نے دھماکا نہیں کیا تھا۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک اور دیگر سات زخمی ہو گئے تھے۔