1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انڈونیشیا: ہم جنسی پرستی سے متعلق سمائیلیز ہٹانے کا حکم

امتیاز احمد12 فروری 2016

انڈونیشیا میں انٹر نیٹ پر ہم جنس پرستی سے متعلق اسٹیکرز ہٹائے جانے کے حکومتی احکامات پر ہیومن رائٹس واچ نے تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اس کمیونٹی کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

https://p.dw.com/p/1HuWU
Indonesien Handy Emoticon Gay Homosexualität
تصویر: Getty Images/AFP/B. Ismoyo

انسانی حقوق کے کارکنان نے انڈونیشیا کے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں ہم جنس پرست اور متنوع جنسی رجحانات رکھنے والے افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ ایک روز قبل ہی جکارتہ نے میسجنگ ایپس سے ہم جنسی پرستی سے متعلق تمام سمائیلیز کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ انڈونیشیا میں موبائل فون کی ایپس اور مختلف انٹر نیٹ چیٹ ہاؤسز میں ہم جنس پرستوں سے متعلق اسٹیکرز اور سمائیلیز کو ہٹانے سے اس کمیونٹی کے افراد کے حقوق پر قدغن لگی ہے۔ معاشرتی طور پر قدامت پسند ملک انڈونیشیا میں ہم جنسی پرستی اور مختلف جنسی میلانات رکھنے والے افراد کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے۔

نیو یارک میں قائم ہیومن رایٹس واچ نے صدر جوکو ودودو کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ انہیں بذات خود ایسے محکموں کی مذمت اور سرزنش کرنا چاہیے، جنہوں نے ہم جنس پرستوں کے خلاف ایسے امتیازی احکامات جاری کیے ہیں۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دراصل مختلف جنسی رجحانات رکھنے والی کمیونٹی LGBT کے خلاف مزید امتیازی سلوک کا راستہ استوار کر دیں گے۔

یہ امر اہم ہے کہ انڈونشیا میں ہم جنس پرستی غیر قانونی نہیں ہے لیکن یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ وہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد اعتدال پسند تعلیمات پر عمل کرتی ہے لیکن ملک میں انتہا پسند عناصر بھی سر اٹھا رہے ہیں۔

انڈونیشیا کی وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور انٹر نیٹ پر موجود پیغام رسانی کے مختلف پلیٹ فارموں پر ہم جنس پرستی کو فروغ دینے والے تمام تر اسٹیکرز اور سمائیلیز کو ہٹا لینا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کو ملکی اقدار اور روایات کا خیال رکھنا چاہیے۔

انڈونیشیا حکومت کی طرف سے ہم جنس پرستوں کے خلاف اس تازہ کارروائی پر ملکی سطح پر فعال انسانی حقوق کے کارکنان نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ملک میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کو فروغ ملے گا اور انتہائی کٹر نظریات کے حامل افراد کو پیغام ملے گا کہ حکومت ان کے ساتھ ہے۔

جذبات کے اظہار کے لیے بنائی جانے والی سمائیلیز لکھ کر بھیجے جانے والے پیغامات کی ترسیل کے لیے مشہور تمام ایپلی کیشنز کا حصہ ہیں جبکہ واٹس اپ، فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ سمائیلیز ایسی ہیں، جو خاص طور پر ہم جنس پرستوں کے لیے بنائی گئی ہیں، جن میں ہم جنس پرست ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اور قوس قزاح کے رنگ نظر آتے ہیں۔