1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انسانوں کی اسمگلنگ کے خلاف قانون سازی، کیا بہتری آئے گی؟

عبدالستار، اسلام آباد
13 اپریل 2018

پاکستانی قومی اسمبلی نے انسانوں کی اسمگلنگ کے خلاف ایک قانونی بل کی منظوری دے دی ہے لیکن خود پارلیمانی اراکین اور ماہرین کے خیال میں اس بل سے انسانوں کی اسمگلنگ روکنے کے حوالے سے کوئی نمایاں بہتری نہیں آئے گی۔

https://p.dw.com/p/2w1cz
قومی اسمبلی میں منظوری کے بعد اب یہ قانونی بل سینیٹ کو بھیجا جائے گاتصویر: DW/I. Jabbeen

کئی اراکین اسمبلی اس بل کے عجلت میں منظور کیے جانے کو بھی شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اس بل کے تحت کوئی بھی شخص اگر دانستہ انسانوں کی اسمگلنگ کا مرتکب ہوتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے، تو اسے کم از کم تین برس اور زیادہ سے زیادہ پانچ برس تک کی قید کا سامنا کرنا پڑے گا اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ یہ بل اب سینیٹ کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد صدارتی دستخطوں سے یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

پاکستان میں نئے پاور پلانٹس منصوبے میں تاخیر متوقع

پاکستانی سیاست: نواز شریف کی تاعمر نااہلی کے بعد ہو گا کیا؟

واضح رہے کہ امریکی حکومت نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو حکومت پاکستان کی امداد میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے امریکی عسکری امداد پہلے ہی بند کی جا چکی ہے جب کہ پاکستان اس وقت کافی زیادہ اقتصادی اور مالی مشکلات کا شکار بھی نظر آتا ہے۔

Wahlen in Pakistan 2013
پاکستان کی آبادی میں بہت بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے اور ان میں سے بہت سے کسی بھی طرح کے روزگار سے محروم ہیںتصویر: DW


چند اراکین قومی اسمبلی کا خیال ہے کہ حکومت نے امریکی دباؤ کے پیش نظر ہی یہ بل عجلت میں منظور کروایا ہے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شیر اکبر خان نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی بل اتنی عجلت میں منظور کیاگیا ہو۔ یقیناً امریکی دباؤ کی وجہ سے ہی یہ عجلت دکھائی گئی ہے لیکن صرف قانون بناکر آپ اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔ ملک میں غربت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایک سو بلین روپے سے زیادہ تو ہم صرف عالمی مالیاتی اداروں کو سود کی مد میں سالانہ دے رہے ہیں، جس سے معیشت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ تو جب تک ہم غربت ختم نہیں کریں گے، لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کریں گے، تب تک اس قانون سازی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘

’پاکستان نے انسانوں کی اسمگلنگ نہ روکی تو امداد بند‘

فاٹا: نوجوان بے روز گاری اور مواقع کی کمی سے دوچار

شیر اکبر خان کے اس موقف کی کئی ماہرین بھی تائید کرتے ہیں۔ پاکستان میں غربت کے خاتمے کے منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے تجزیہ نگار عامر حسین کہتے ہیں کہ سماجی اور معاشی مسائل حل کیے بغیر انسانوں کی اسمگلنگ کو روکنا آسان نہیں ہو گا۔

امریکا اور پاکستان میں ’پیار اور نفرت‘ کا رشتہ ہے، جیمز لِنڈسی

اس مسئلے پر اظہار رائے کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’چھ کروڑ سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے رہ رہے ہیں۔ ملک میں نوجوانوں کے بہت بڑی تعداد ایسی ہے، جسے روزگار میسر نہیں۔ ملک میں اسّی کی دہائی سے کوئی خاص صنعتیں نہیں لگیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں مہنگائی میں کئی گناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ تو لوگ زندہ رہنے کے لیے روزگار تلاش کر یں گے، چاہے اس کے لیے انہیں کہیں بھی جانا پڑے۔ وہ جائیں گے۔ چاہے اس میں خطرات ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر حکومت اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو قانون سازی کے ساتھ ساتھ وہ صنعتیں بھی لگائے اور نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر قرضے بھی دے تا کہ وہ اپنے چھوٹے موٹے کاروبار شروع کریں اور انسانوں کے اسمگلروں کے ہتھے نہ چڑھیں۔‘‘ عامر حسین کا کہنا تھا کہ ایک اور عنصر یہ بھی ہے کہ اس کاروبار میں بہت سے طاقت ور لوگ بھی ملوث ہیں۔ ’’ایسے لوگوں کے سیاسی رابطے ہوتے ہیں اور ان کی ہر جگہ پہنچ ہوتی ہے۔ پھر ایف آئی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں میں کرپشن بھی ہے۔ تو ایسی صورت میں آپ کے لیے اس جرم کو روکنا ممکن نہیں ہے۔‘‘

رومانیہ میں ایک پاکستانی سمیت دس مشتبہ انسانی اسمگلر رفتار

یورپی پولیس انسانوں کے 65000 اسمگلروں کی تلاش میں

دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کی لسٹ، 139 نام پاکستان سے

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین اس بل کو تیار کرنے والی کمیٹی برائے داخلہ امور کے رکن بھی ہیں۔ ان کے خیال میں بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے صرف قانون سازی ہی کافی نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں ہمارے بیرون ملک سفارت خانوں کے اہلکاروں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے کس ملک میں افرادی قوت کی کتنی ضرورت ہے اور اس میں پاکستانیوں کا کیا کردار ہو سکتا ہے اور آیا وہ قانونی طریقے سے وہاں کوئی روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جس طرح ہم نے ملائیشیا سے ’فری ٹریڈ ان سروسز‘ کا معاہد ہ کیا ہے، اسی طرح کا فری ٹریڈ معاہدہ ہمیں چین سمیت دوسرے ممالک سے بھی کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی نوجوان اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر غیر قانونی ترک وطن کرتے ہوئے بیرونی ممالک میں روزگار حاصل کرنے کی کوششوں کے بجائے یہی کام قانونی طریقے سے کر سکیں۔‘‘