1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستشمالی امریکہ

امریکی حکومت نے گوگل کی اجارہ داری کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

20 اکتوبر 2020

واشنگٹن حکومت اور کئی امریکی ریاستوں نے آن لائن سرچ کے شعبے میں ملکی کمپنی گوگل کی مبینہ کاروباری اجارہ داری کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ گوگل پر اپنے حریف اداروں کو نیچا دکھانے کے لیے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

https://p.dw.com/p/3kBjH
تصویر: picture alliance / Geisler-Fotopress

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق دنیا کی بہت بڑی بڑی اور انتہائی کامیاب کمپنیوں میں شمار ہونے والے ادارے گوگل کے خلاف یہ مقدمہ امریکی محکمہ انصاف اور امریکا کی گیارہ مختلف ریاستوں کی طرف سے ملک کے اینٹی ٹرسٹ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کی وجہ سے منگل بیس اکتوبر کو دائر کیا گیا۔

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں: اجارہ داری کا خاتمہ ضروری، امریکی رپورٹ

اس مقدمے میں گوگل پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے آن لائن سرچ انجنز کی مارکیٹ میں اپنی انتہائی غالب پوزیشن کو اپنے حریف اداروں کو نیچا دکھانے کے لیے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استعمال کیا۔ فوری طور پر گوگل نے اس پیش رفت پر اپنا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

گوگل کتنی بڑی کمپنی ہے؟

گوگل کے سو فیصد ملکیتی حقوق 'ایلفابیٹ انکارپوریٹڈ‘ نامی کمپنی کے پاس ہیں۔ 'ایلفابیٹ‘ کا تو ذکر ہی کیا، خود گوگل اتنی بڑی کمپنی ہے کہ دنیا بھر میں فعال ادارے کے طور پر جہاں کہیں بھی لفظ انٹرنیٹ لفظ بولا جاتا ہے، وہیں پر ساتھ ہی گوگل کا نام بھی آتا ہے۔ یہاں تک کہ گوگل کے ذریعے کسی بھی آن لائن سرچ کے لیے عام صارفین ایک دوسرے کو یہ نہیں کہتے کہ کوئی بھی معلومات گوگل پر تلاش کر لیں، بلکہ اس کے لیے کہا جاتا ہے، ''گوگل کر لیں۔‘‘

USA San Francisco PK Google Sundar Pichai
گوگل کے بھارتی نژاد سی ای او سندر پیچائیتصویر: picture-alliance/AP Photo/E. Risberg

گوگل کی آمدنی یورپی ملک ہنگری کی آمدنی سے بھی زیادہ

گوگل کاروباری حوالے سے اتنی کامیاب ہے کہ 2019ء میں اس امریکی کمپنی کو 162 بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی، جو یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری کی سال بھر کی مجموعی قومی آمدنی سے بھی زیادہ بنتی تھی۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ صدر ٹرمپ کے دور صدارت میں، جب اگلے امریکی صدارتی الیکشن کے انعقاد میں تقریباﹰ دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں، امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے دائر کیے گئے اس مقدمے کو ایک سیاسی چال بھی کہا جا رہا ہے۔

عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں کی امریکی کانگریس کے سامنے پیشی

چند ماہرین اس اقدام کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی انتخابی وعدوں کا حصہ بھی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ وہ ماضی میں کئی بار اپنے حامیوں کو یہ یقین دہانیاں کرا چکے ہیں کہ وہ ان بڑی بڑی کمپنیوں کو جواب دہ بنائیں گے، جو مبینہ طور پر امریکی قدامت پسند ووٹروں کی رائے کو دباتی ہیں۔

Google Mutterkonzern Alphabet Inc.
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/A. Pohl

گیارہ ریاستی اٹارنی جنرل بھی ریپبلکن

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کی کل 50 میں سے جو 11 ریاستیں اس مقدمے میں ملکی محکمہ انصاف کی ہم نوا بنی ہیں، ان سب کے اسٹیٹ اٹارنی جنرل اپنی سیاسی سوچ اور ترجیحات میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا اس کے حامی ہیں۔

گُوگل بنے گا اب آپ کا ذاتی اسسٹنٹ

اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو چند ترقی پسند ڈیموکریٹ ارکان کانگریس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر امریکی سینیٹ کی خاتون رکن الزبتھ وارن تو #BreakUpBigTech کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے کئی بار یہ مطالبہ بھی کر چکی ہیں کہ بڑے بڑے ٹیکنالوجی اداروں کے خلاف 'فوری اور جارحانہ ایکشن‘ کی ضرورت ہے۔

فیک نیوز سائٹس بھی گوگل اور ایمازون سے کما رہی ہیں، رپورٹ

ایک سال تک جاری رہنے والی چھان بین

گوگل کے خلاف کاروباری اجارہ داری کے الزام میں اب دائر کیے جانے والے مقدمے سے قبل اس بات کو ایک سال ہو چکا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف اور امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے چار بہت بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اینٹی ٹرسٹ چھان بین بھی شروع کر دی تھی۔ یہ چار امریکی کمپنیاں ایمیزون، ایپل، فیس بک اور گوگل تھیں۔

بھارت:چینی موبائل ایپس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہے

گوگل کو بیرون ملک کیے جانے والے جرمانے

جس طرح ایک مقدمہ گوگل کے خلاف اب امریکا میں دائر کیا گیا ہے، اسی طرح کے اقدامات کا ماضی میں اس امریکی کمپنی کو اپنے خلاف بیرون ملک بھی سامنا رہا ہے۔

مثال کے طور پر 2019ء میں یورپی یونین نے گوگل کو اس لیے 1.7 بلین ڈالر جرمانہ کر دیا تھا کہ تب گوگل نے مختلف ویب سائٹس  کی طرف سے اس ادارے کے  حریف اداروں کو اشتہار دینے والی کمپنیاں تلاش کرنے کے عمل میں رکاوٹیں ڈالی تھیں۔

’گوگل اور فیس بک انسانی حقوق کے لیے خطرہ‘

اس کے علاوہ 2017ء میں گوگل کو یورپی یونین نے اس لیے 2.6 بلین ڈالر جرمانہ کیا تھا کہ گوگل اپنے سرچ انجن کے ذریعے صارفین کو مختلف نتائج دکھانے میں اپنے ہی شاپنگ بزنس کو ترجیح دیتی تھی۔

اس طرح گوگل کو اپنے اینڈروئڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے حریف اداروں کو بلاک کرنے کی کوشش کرنے پر 2018ء میں بھی 4.9 بلین ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا۔

م م / ع س (روئٹرز، اے پی، اے ایف پی)