1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

"اسرائیل عالمی قوانین سے بالا تر نہیں " محمود عباس کا یورپی پارلیمان میں خطاب

Atif Baloch4 فروری 2009

فلسطینی صدر محمود عباس نے یورپی پارلیمان میں اپنی تقریر میں کہا کہ غزہ پٹی میں اسرائیلی عسکری کارروائی کے دوران کئے جانے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کروائی جانی چاہئیں۔

https://p.dw.com/p/GnEE
فلسطینی صدر محمود عباس نے یورپی پارلیمان میں اپنی تقریر کے دوران یورپی ممالک پر زور ڈالا کہ فلسطینی عوام کا تحفظ یقینی بنائےتصویر: AP

بدھ کے دن فلسطینی صدر محمود عباس نے فرانسیسی شہر شٹراس برگ میں یورپی پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے اپنی درخواست کو دہرایا کہ یورپی یونین مشرق وسطی میں امن فوج تعینات کرے اور فلسطینی علاقوں میں انتخابات منعقد کروانے کے لئے مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برداری اپنی قانونی، سیاسی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں مناسب حفاظتی اقدامات کرے۔ محمود عباس نے اپنی درخواست پر دوبارہ زور دیا کہ عالمی برادری فلسطینی عوام کا تحفط یقنی بنائے۔

Abbas im Straßburger Europaparlament
محمود عباس شٹراس برگ میں یورپی پارلیمان میں تقریر کے دورانتصویر: AP

یورپی پارلیمان میں اپنے خطاب کے دوران محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں صدارتی اورپارلیمانی انتخابات کو منعقد کروانے میں یورپی یونین مدد کرے۔ ابھی تک فلسطینی علاقوں میں انتخابات کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے۔

یورپی یونین نے فلسطینی علاقوں میں انتخابات کو شفاف اورغیرجانبدارنہ بنانے کی غرض سے سن 1996 اور سن 2006 میں غیر جانبدرانہ مبصرین تعینات کئے تھے۔

غزہ کی موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے کہا جا سکتاہے کہ فلسطینی علاقوں میں انتخابات کے لئے آزادنہ مبصرین تعینات کرنا وہاں امن فوج بھیجنے کے مقابلے میں قدرے کم متنازعہ ہو گا۔ کیونکہ یورپی یونین حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ فلسطینی علاقوں میں امن فوج اس وقت تک تعینات نہیں کی جا سکتی جب تک خطے میں مستقل اور پائیدار جنگ بندی کا معاہدہ طے نہیں ہوتا اور اس میں اسرائیل کی منشا شامل نہیں ہوتی۔ تاہم یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ غزہ پٹی کے سرحدی راستے میں آمد و رفت کی نگرانی کے لے اپنی خدمات دے سکتا ہے۔

یورپی پارلیمان میں اپنی تقریر کے دوران فلسطینی رہنما محمود عباس نے غزہ پٹی پر اسرائیلی تباہ کن حملے کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا اس حملے میں قریبا 1400 فلسطینی جان بحق ہوئے جنمیں سے زیادہ تر شہری تھے۔ محمود عباس نے کہا کہ اس عسکری کارروائی میں پانچ ہزار زخمی جبکہ ایک لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔

Abbas im Straßburger Europaparlament mit Hans Pöttering
فلسطینی صدر محمود عباس اور یورپی پارلیمان کے صدر ہنس گئیرت پوئترِنگتصویر: AP

محمود عباس نے حماس جنگجووں کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے وہ ان راکٹ حملوں کی مذمت کرتے رہے ہیں اورآج بھی وہ ان راکٹ حملوں کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ راکٹ حملے خطے میں امن اور استحکام نہیں لا سکتے۔

محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں قومی مفاہمت اور متحدہ حکومت بنانے کی لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ فلسطینی رہنما نے یہ بھی کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیل کی طرف سے کئے گئے جنگی جرائم کا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل عالمی قوانین سے بالا تر نہیں ہے۔

یورپی پارلیمان کے صدر Hans-Gert Poettering نے کہاکہ اگر حماس جنگجو اسرائیلی علاقوں میں راکٹ حملے بند کرے اور دہشت گردانہ کارروائیاں ختم کرے تو یورپی یونین فلسطینی عوام کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین فلسطین اوراسرائیل میں بسنے والے تمام افراد کا بلا امتیاز ساتھی بننا چاہتی ہے۔