1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسامہ ایبٹ آباد میں کیا کر رہا تھا:امریکی سفیر کا سوال

10 مئی 2011

پاکستان میں متعین امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کو جواب دینا ہوگا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں کیا کررہا تھا ،جبکہ ایمن الظواہری اور ملا عمر کے خلاف مشترکہ کاروائی کا فیصلہ پاکستان کو کرنا ہے۔

https://p.dw.com/p/11D4a
اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہریتصویر: AP

تاہم انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا یہ کاروائی مشترکہ ہوگی یا امریکہ کو کرنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار امریکی سفیر نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے اہداف ایک ہیں اور ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پرعزم بھی ہیں۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تعلقات کی طویل اور سودمند تاریخ ہے اور یہ تعلقات کافی پرانے ہیں اوربہت نتیجہ خیز بھی۔ اسی وجہ سے ہمیں یعنی امریکہ کو فتح نصیب ہوئی ہے۔

کیمرون منٹر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انکا ملک ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کا خواہاں ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاھتا ہے۔ ایک طالبعلم نے امریکی سفیر سے پوچھا کہ اگر آپکا ملک ایک مستحکم پاکستان چاہتا ہے تو یہ کیسی مضبوطی ہے کہ امریکہ عملی طور پر پاکستان کی خود مختاری تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان کے حدود کی خلاف ورزی کرکے ڈرون حملے کیے جارہا ہے اور اب تو کھلے عام شہروں پر بھی حملوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

USA Elitetruppe Navy SEALS Kampftraining
اسامہ کے خلاف امریکی آپریشنتصویر: dapd

امریکی سفیر نے سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، مگر انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ پیغام واضح طور پردیا کہ اگر ملا عمر اور ایمن الظواری بھی پاکسستان میں موجود ہوئے تو امریکہ انکے لیے بھی براہ راست کاروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ مسٹر منٹر کی اس گفتگو کے تناظر میں پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبربھی اہمیت کی حامل ہے کہ فوج اور خفیہ ادارے کوئٹہ میں ایک بڑے فوجی آپریسشن کی تیاری کررہے ہیں، جسکے ذریعے وہ ملا عمر کو گرفتار کرنا چاھتے ہیں۔

ایک اور طالبعلم نے امریکی سفیر سے پوچھا کہ امریکہ کا موقف ہے کہ اگر مشن کے بارے میں پاکستان کو آگاہ کرتے تو ہدف خبردار ہوجاتا۔ اسکا مطلب ہے کہ جنرل پاشا، اسامہ کو خبردار کردیتے؟ یہ سنگین الزام ہے آپ اس ملک کے خفیہ اداروں کے بارے میں بات کررہے ہیں جسکے ساتھ مل کر آپ کام کررہے جس کے ساتھ مل کر القاعدہ کے کئی مطلوب افراد کو گرفتار کیا گیا۔

امریکی سفیر نے اپنے روایتی انداز میں مسکراتے ہوئے دھیمے لہجے میں سوال کا جواب کچھ یوں دیا ’ امریکہ جب حساس آپریشن کرتا ہے تو آپریشنل سکیورٹی اہم ہوتی ہے‘۔ انہوں نے اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے بارے میں صرف چند متعلقہ افراد کو علم ہوتا ہے۔

Pakistan Terror Haus von Osama bin Laden in Abbottabad
ایبٹ آباد میں اسامہ کا گھرتصویر: dapd

شمالہ وزیرستان اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کیمروں منٹر نے کہا کہ میں صرف یہی کہون گا کہ آپ اگر آپ آستین میں سانپ پالیں گے تو وہ آپ کو ہی ڈسیں گے۔

پاک امریکہ تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کی ارا میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اچانگ امریکی سفیر کی سرگرمیوں میں اضافہ خصوصاً ملک کے طول عرض میں کیے جانے والے دورے۔ بے مقصد نہیں۔ بلکہ امریکہ آپریشن جرامینو کے بعد پاکستان کے ہر طبقے میں اس حوالے سے موجود ردعمل کا بغور جائزہ لینا چاھتا ہے، تاکہ مستقبل کی حکمت عملی تیار کرتے وقت ردعمل کے عنصر کو مدنظر رکھا جاسکے۔

رپورٹ: رفعت سعید کراچی

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں