1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اربوں برس قبل کی کائنات کا نقشہ

14 نومبر 2012

ماہرین فلکیات کی ایک ٹیم نے ایک ایسا پہلا نقشہ تیار کیا ہے، جس میں گیارہ ارب سال قبل کائنات کا وجود دکھایا گیا ہے۔ ماہرین نے اِس نقشے میں بِگ بینگ نظریے کے بعد کائنات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو ظاہر کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/16jC0
تصویر: NASA

ماہرین فلکیات کی اس کوشش کی تفصیلات فلکی علوم کے معتبر جریدے اسٹرانومی اور ایسٹروفزکس (Astronomy & Astrophysics) میں شائع کی گئی ہیں۔ کائنات کے اس نقشے میں علوم فلکی اور اجرام سماوی کی طبیعات کے ماہرین نے گیارہ ارب برس قبل کی کائنات کے منظر کو ایک شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ سائنسدانوں کی اس ٹیم نے نقشے میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ تخلیق کائنات سے منسلک بِگ بینگ کے بعد کائنات میں رونما ہونے والی وسعت کا کسی طور احاطہ کیا جائے۔ بِگ بینگ کے بعد کائنات میں ظاہر ہونے والی وسعت کے بارے میں ایسٹرو فزکس کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اب بھی جاری ہے۔

Bild der Milchstraße
نقشے میں قدیمی کائنات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہےتصویر: AP

جریدے اسٹرانومی اور ایسٹروفزکس میں شائع ہونے والے نقشے میں اُس نظریے کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بِگ بینگ کے بعد کائنات میں تقریباً تین ارب سال کا طویل عرصہ قدرے سست رفتار رہا اور پھر وسعت کے عمل میں تیزی پیدا ہوئی تھی۔ ماہرین کے خیال میں اسی عرصے کے دوران مجتمع ہونے والی کائناتی قوت، جسے ماہرین فلکیات ڈارک انرجی (Dark Energy) کا نام دیتے ہیں، اُس تاریک قوت کے عمل پذیر ہونے سے کہکشاؤں کے درمیان طویل فاصلوں نے جنم لیا اور یہ ایک دوسرے سے بتدریج دوری اختیار کرتی گئیں۔

Vorhang auf für junge Sterne - Riesige Sternen-Kinderstube
اس نقشے میں بگ بینگ کے بعد ہونے والی تبدیلیاں دکھائی گئی ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

ماہرین نے اس نقشے میں بِگ بینگ کے بعد رونما ہونے والی تقریباً تمام تبدیلیوں کو کسی طور جامعیت دینے کی کوشش بھی کی۔ اسی نظریے کے تحت نقشہٴ کائنات میں انتہائی دوری پر مختلف کہکشاؤں کو متحرک دکھایا گیا ہے۔ نظریے کے ماہرین کے مطابق کائنات میں بگ بینگ کے بعد پیدا ہونے والی سماوی تابکاری یا ریڈی ایشن (cosmic radiation) کے باعث گلیکسیز اور ملکی ویز میں دوری وقوع پذیر ہوئی تھی۔ برطانیہ کی (Portsmouth) یونیورسٹی کے سائنسدان میٹ پیئری (Mat Pieri) کا کہنا ہے کہ اس تحقیقی عمل کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اربوں سالوں کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد بھی یہ کائنات ابھی نوعمر ہے۔

کائنات کے جس نقشے کو مرتب کیا گیا ہے، اس پر سن 2009ء سے تحقیقی عمل جاری ہے۔ اس ریسرچ میں کل 63 ماہرین فلکیات اور ایسٹروفزکس کے ماہرین شریک تھے۔ اس نقشے کی تیاری میں کئی جدید ٹییکنیکل آلات کا سہارا بھی لیا گیا۔ ان ماہرین نے جدیدی تکنیکی سہولتوں سے ایسے پچاس ہزار سیاروں اور سیارچوں کا بھی مطالعہ کیا گیا، جن سے بہت زیادہ ریڈیائی لہروں کا اخراج جاری ہے۔ ان سیارچوں کی لہریں زمین کی جانب کائنات میں پھیلے ہائیڈروجن گیس کے گہرے بادلوں کو چیرتی ہوئی گزر رہی ہیں۔ اپنی تحقیق کی تکمیل پر سائنسدانوں نے قدیمی کائنات کی ایک تصویر بھی تیار کی ہے۔ ایسا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کائنات کے قدیمی نقشے پر جاری ریسرچ کو آئندہ برسوں میں بھی جاری رکھا جا ئے گا۔

ah / km (reuters)