1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

آسیہ بی بی کو صدارتی معافی ملنے کا امکان کم ہی ہے

7 مارچ 2018

آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ بی بی کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون  قابل رشک ہے تاہم انہیں پاکستانی صدر کی جانب سے آسیہ بی بی کے معاف کیے جانے کی امید نہیں ہے۔

https://p.dw.com/p/2tsgA
جب آپ کے کام کی تعریف ہو اور آپ سے تعاون کیا جائے تو آپ خود کو مضبوط محسوس کرتے ہیں، سیف الملوکتصویر: DW/S.M. Baloch

53 سالہ آسیہ بی بی کو سلاخوں کے پیچھے اذیت ناک زندگی گزارتے ہوئے تقریباً نو برس ہو گئے ہیں۔ پانچ بچوں کی والدہ سالہ آسیہ بی بی کو جون 2009ء میں ان کے پڑوسی کی شکایت پر توہین رسالت کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کے شدید احتجاج کے باوجود ایک سال بعد ہی انہیں توہین مذہب کے متنازعہ قانون کی وجہ سے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

ڈی ڈبلو سے بات کرتے ہوئے آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے اس مقدمے کی تازہ صورتحال کے بارے میں بتایا، ’’بی بی کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہمیں جلد ہی حتمی تاریخ دے دی جائے گی۔ آخری مرتبہ اکتوبر 2016ء میں اس مقدمے کی سنوائی ہوئی تھی۔ بعد ازاں ایک جج نے یہ کہتے ہوئے اس کیس سےعلیحدگی اختیار کر لی تھی کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ممتاز قادری کے مقدمے سے منسلک ہیں۔

Mr. Saif ul Malook  Anwalt von Asia Bibi
بی بی کے قریبی لوگ خطرے میں ہیں۔ ہم خدا سے ان کی حفاظت کے لیے دعا گو ہیں، سیف الملوکتصویر: privat

ڈی ڈبلیو: یہ تو سال ڈیڑھ سال پرانی بات ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت کی کوئی نئی تاریخ کیوں نہیں دی؟

سیف الملوک:  میرے خیال میں یہ مقدمہ عدالت کے لیے ترجیح نہیں ہے۔ آخری مرتبہ جب میری سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے بات چیت ہوئی تھی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ موت کی دو ہزار سزاؤں کے خلاف اپیلیں عدالت میں جمع ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہمیں بھی جلد ہی تاریخ مل جائے گی۔

ڈی ڈبلیو: کیا آپ کو کبھی انتہا پسندوں کی جانب سے کوئی دھمکی موصول ہوئی؟ کیا وجہ ہے کہ آپ ان کے لیے قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں؟

سیف الملوک: کوئی بھی وکیل ممتاز قادری کے مقدمے میں استغاثہ بننے پر تیار نہیں تھا۔ سب کو اپنی جان کا خطرہ تھا۔ میں نے وکیل استغاثہ بنتے ہوئے اسے سزا دلائی۔ آسیہ بی بی کے مقدمے کا تعلق قادری سے بھی ہے۔ میرے خیال میں کسی کو تو یہ مقدمے لڑنا ہوں گے۔ ہر شہری کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ اس کا مقدمہ اس کی مرضی کا وکیل لڑے۔

آسیہ بی بی کی رہائی کے حوالے سے پاکستان میں شدید مخالفت بھی پائی جاتی ہے، اب یہ مذہبی نہیں بلکہ ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنائے جانے کے چند ماہ بعد اس وقت صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ہی ایک محافظ ممتاز قادری نے اس وجہ سے قتل کر دیا تھا کیونکہ گورنر نے توہین رسالت کے قانون میں ترامیم اور آسیہ بی بی کی حمایت کی تھی۔

Asia Bibi, in Pakistan für Blasphemie zum Tode verurteilt
آسیہ بی بی کو جون 2009ء میں ان کے پڑوسی کی شکایت پر توہین رسالت کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھاتصویر: picture-alliance/dpa/Governor House Handout

آسیہ بی بی نے 2016ء میں عدالت عظمٰی میں اپنی آخری پیشی کے موقع پر اپنی سزائے موت کے خلاف درخواست کی تھی۔ اسی برس آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے بھی اپنی اہلیہ کے لیے صدارتی معافی کے لیے صدر ممنون حسین کو خط لکھا تھا۔ اس خط میں صدر سے آسیہ بی بی کو فرانس منتقل کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ کونسل آف پیرس آسیہ بی بی کو اعزازی شہریت دینے پر متفقہ طور پر رضامندی ظاہر کر چکی ہے۔

ڈی ڈبلیو: کیا بین الاقوامی سطح پر تعاون کا آسیہ بی بی کے مقدمے میں فائدہ بھی ہے یا نہیں؟

سیف الملوک: میرے خیال میں اس کا پاکستانی حکومت کے رویے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہمیں یہ بھولنا نہیں  چاہیے کہ پاکستانی حکومت آسیہ بی بی کے مقدمے میں استغاثہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم بین الاقوامی تعاون نے میرے اور آسیہ بی بی کا حوصلہ بلند کیا ہے۔ جب آپ کے کام کی تعریف ہو اور آپ سے تعاون کیا جائے تو آپ خود کو مضبوط محسوس کرتے ہیں۔ جب میں نے انہیں یہ بتایا کہ بہت سارے ممالک انہیں شہریت دینا چاہتے ہیں تو یہ سن کر انہیں حوصلہ ملا اور وہ یہ بھول گئیں کہ وہ گزشتہ نو برسوں سے جیل میں ہیں۔

ڈی ڈبلیو:جیل میں ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا ہے؟

سیف الملوک: میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ میں ان سے باقاعدگی سے ملاقات کرتا ہوں۔ انہوں نے کبھی جیل انتظامیہ کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی۔

توہین مذہب کے پاکستانی قانون کے خلاف اٹلی میں احتجاجی مظاہرہ

مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بیٹیاں خوف کے سائےتلے

آسیہ بی بی توہین رسالت کی مرتکب نہیں ہوئی، شوہر کی اپیل

توہین مذہب یا رسالت کا قانون 80ء کی دہائی میں فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔ تاہم سرگرم افراد اور تنظیموں کے مطابق اس قانون کا استعمال ذاتی دشمنی اور عناد کا بدلہ لینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور  مسیحی، ہندو اور احمدی اکثر ان کا نشانہ بنتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: کیا پاکستان میں بی بی کے رشتے داروں اور  دوستوں کو دھمکیاں ملی ہیں؟

سیف الملوک: پاکستان میں کسی ایسے شخص کے حق میں بات کرنا بہت ہی خطرناک ہے، جس پر توہین رسالت کا الزام ہو۔ یہ بہت ہی حساس مقدمہ ہے۔ تو اس وجہ سے، ہاں بی بی کے قریبی لوگ خطرے میں ہیں۔ ہم خدا سے ان کی حفاظت کے لیے دعا گو ہیں۔

ڈی ڈبلیو:کیا صدر کی جانب سے معافی کی کوئی امید ہے؟

سیف الملوک: میرے خیال میں نہیں۔ پاکستانی معاشرے کے ایک بڑے حصے کی جانب سے مخالفت اتنی شدید ہے کہ میرا نہیں خیال میں صدر کی جانب سے انہیں معاف کیا جائے گا۔ ملکی آئین کے مطابق صدر، وزیر اعظم سے مشورے کے بعد فیصلہ کرتا ہے اور میرے خیال میں کوئی بھی جمہوری وزیر اعظم صدر سے اس طرح کی کوئی درخواست نہیں کرے گا۔

یہ انٹرویو شاہ میر بلوچ نے اسلام آباد میں کیا۔

’یہ حکومت بھی توہین مذہب کے معاملے کو نظر انداز کر رہی ہے‘