1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

Welthungerhilfe، معروف جرمن امدادی تنظیم

دنیا میں بھوک کے خاتمے کے لئے کام کرنے والے نجی جرمن ادارے ویلٹ ہنُگر ہلفےکا شمار جرمنی کی بڑی اور معروف ترین امدادی تنظیموں میں ہوتا ہے۔ حال ہی میں وولفگانگ یامَن نے اس کے نئے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

default

بھوک اور غربت سے سب سے زیادہ براعظم افریقہ متاثر ہے

دُنیا کے تقریباً پچاس ممالک میں سرگرمِ عمل تنظیم ویلٹ ہنُگر ہلفےکے ارکان کی تعداد تین سو ساٹھ ہے اور اِس کا سالانہ بجٹ 140 ملین یورو بنتا ہے۔ نئے سربراہ وولفگانگ یامَن ایک ایسی سماجی تحریک کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں، جو دنیا بھر میں انصاف اور غربت کے خاتمے کے لئے کام کرے۔ ان کے خیال میں غربت کے خاتمے کے لئے بہت کچھ کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، وہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ویلٹ ہنُگر ہلفے سے منسلک ہوں تاکہ جرمنی میں سیاسی دباؤکو بڑھانے میں مدد مل سکے۔

Armut Philippinen Manila Armenspeise

اس وقت دُنیا میں دو ارب افراد انتہائی غریب ہیں

’’میری یہ خواہش ہے کہ ویلٹ ہنُگر ہلفے اس شعبے میں صف اوّل کی تنظیموں میں شامل ہو اور ہم بڑے پیمانے پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے ہمیں جرمنی اور یورپی سطح پر زیادہ سے زیادہ متحرک ہونا پڑے گا۔‘‘

وولفگانگ یامَن کا کہنا ہے کہ خطے میں متحرک ہو کر ہی وہ ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غربت کے خلاف جنگ کو ایک سماجی تحریک میں تبدیل کرنا ضروری ہے جیسا کہ 70ء کی دہائی میں ماحولیات اور خواتین کے حقوق کے لئے تحریکیں چلائی گئی تھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ان ترقیاتی کاموں میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔

Gebäude des UN-Welternährungsprogramms (WFP) in Kabul

2015 ء تک غربت کے خاتمے کا ہزاریہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا

’’بہت سے نوجوانوں کے پاس چندہ دینے کے پیسے نہیں ہوتے لیکن وہ ان کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ ہماری تنظیم نوجوانوں کو مختلف سماجی منصوبوں میں کام کرنے کے لئے بھیجتی ہے۔ جب یہ نوجوان واپس آتے ہیں تو وہ بہت پرجوش ہوتے ہیں۔ اس لئے ہماراخیال ہے کہ نوجوانوں کے اس جذبے کو زیادہ سے زیادہ کام میں لایا جانا چاہیے۔‘‘

ویلٹ ہنگر ہلفے کے نئے سربراہ کا کہنا ہےکہ اس وقت دُنیا میں دو ارب افراد انتہائی غریب ہیں۔ ان کے خیال میں صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ 2015ء تک غربت کے خاتمے کا ہزاریہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : امجد علی