1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

Twitter کی جانب سے Follow بٹن کا اجراء

انٹرنیٹ کے صارفین تک مختصر پیغامات، خبریں اور خیالات پہنچانے والی وَیب سائٹ ٹویٹر نے اب ایک نئی سروس شروع کی ہے۔ اب مختلف وَیب سائٹس پر ’فالو‘ کے نام سے متعارف کروائے گئے ایک بٹن سے بآسانی ٹویٹر تک پہنچا جا سکتا ہے۔

default

دُنیا بھر میں تیزی سے مقبولیت اختیار کرتی ہوئی انٹرنیٹ سروس وَیب سائٹ ٹویٹر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ ایک نیا طریقہ ہے، جس میں اِس بٹن کے ذریعے صارفین اپنی اُن پسندیدہ وَیب سائٹس سے، جن پر وہ روزانہ جاتے ہیں، براہِ راست ٹویٹر کے مندرجات تک پہنچ سکیں گے۔

ٹویٹر کے ہیڈکوارٹر سان فرانسسکو سے موصولہ خبروں کے مطابق اِس نئے ’فالو‘ بٹن کا اعلان عین اُسی روز کیا گیا، جس روز وَیب ایڈورٹائزنگ کمپنی AdGrok نے یہ اعلان کیا کہ ٹویٹر نے اُسے خرید لیا ہے۔

ٹویٹر کو دُنیا بھر میں اشتہارات کے ذریعے سن 2010ء میں 45 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی

ٹویٹر کو دُنیا بھر میں اشتہارات کے ذریعے سن 2010ء میں 45 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی

اپنی ایک بلاگ پوسٹ میں ’ایڈگراک‘ نے بتایا ہے:’’جب ٹویٹر نے ہمارے ساتھ رابطہ کیا اور پوچھا کہ آیا ہم اُن کے مارکیٹنگ کے شعبے میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو ہم نے سوچا کہ ایسا موقع کبھی کبھی ملتا ہے اور ہمیں اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چنانچہ آج سے ہم صرف اور صرف ٹویٹر کی مارکیٹنگ ٹیم کے لیے کام کر رہے ہوں گے۔‘‘

ٹویٹر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’فالو‘ بٹن پچاس سے زیادہ وَیب سائٹس پر متعارف کروایا گیا ہے، جن میں خبروں، کھیلوں اور ویڈیوز کی سائٹس شامل ہیں۔ ان میں لیڈی گاگا، جسٹن بیبر اور برٹنی سپیئرز جیسی شو بزنس کی مشہور شخصیات کی وَیب سائٹس بھی شامل ہیں۔

جن وَیب سائٹس پر ’فالو‘ بٹن متعارف کروایا گیا ہے، اُن میں گلوکارہ لیڈی گاگا کی وَیب سائٹ بھی شامل ہے

جن وَیب سائٹس پر ’فالو‘ بٹن متعارف کروایا گیا ہے، اُن میں گلوکارہ لیڈی گاگا کی وَیب سائٹ بھی شامل ہے

بتایا گیا ہے کہ ٹویٹر کو دُنیا بھر میں اشتہارات کے ذریعے سن 2010ء میں 45 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی اور اِس سال اِس آمدنی میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ متوقع ہے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں 20.6 ملین افراد مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ ٹویٹر پر جاتے ہیں اور اِس سال اِس کے صارفین کی تعداد میں 26 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس