1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

Stop Aids

ہرسال یکم دسمبرکو دنیا بھرمیں ایڈز کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال جرمنی میں اس دن کا موٹو تھا اپنے آپ کو اور دوسروں کو ایڈز سے بچانے کے لئے اپنی مشترکہ ذمہ داری نبھائیں۔

default

بین الاقوامی سطح پرایڈز کے عالمی دڈن کا موٹو تھا Stop Aids۔ اقوام متحدہ نے ایڈز کو روکنے کے حوالے سے 2015 تک کا جو ہدف مقررکیا ہے اس کے بارے میں بری خیر یہ ہے کہ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ ہزاریے کے اپنے اس ہدف کو حاصل نہیں کر پائے گی۔ ایڈز کے عالمی دن کے موقع پرجرمن ترقیاتی امور کی وزیر Wieczorek-Zeul نے اس مہلک مرض کے خلاف جنگ میں مزید رقوم مختص کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس حوالے سے انہوں نے مشوردیا کہ امیر صنعتی ممالک، ترقی پذیر ملکوں کواس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ قرضے فراہم کریں تاکہ ان ممالک میں اس مرض کی روک تھام کے سلسلے میں موثر اقدامات اٹھائیں جا سکیں۔

AIDS-Schleife HIV AIDS Symbolfoto


دنیا بھر میں کوئی 33 ملین افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں اور جنوبی افریقہ میں تو یہ حال ہے کہ وہاں ہرنواں شخص اس مرض مبتلا ہے۔ حکومت کی عدم توجہ سے ہر سال ہزاروں افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کام کرنے والی ایک جرمن امدادی تنظیم کی ایک ڈاکٹرSusanne Reuther کے مطابق صرف ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے لئے مالی امداد دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا جنوبی افریقہ میں ہر روز ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اٹھارہ سو سے دو ہزار کا اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ جرمنی میں ہر سال اتنے مریض ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران Hiv Virus کے متاثرین کی تعداد میں کوئی واضع کمی نہیں آئی ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ابھی تک ہماری گرفت میں نہیں ہے۔


اس مسئلے کے گرفت میں نا ہونے کی مثال یہ ہے کہ وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ میں HIV وائرس سے متاثرین کی تعداد میں سن 2001 کے بعد سے اب تک 150 فی صد اضافہ ہو ا ہے۔ ویتنام میں تو ان سالوں کے دوران ایڈز کے مریضوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے جبکہ انڈونیشیا میں یہ مرض دوسرے ملکوں کی نسبت سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے۔ براعظم افریقہ میں HIV وائرس کے پھیلنے پرتھوڑا بہت قابو پا لیا گیا ہے لیکن پھربھی یہاں اس مہلک مرض سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جہاں جنوبی افریقہ میں ہرنواں شخص ایڈز کے مرض میں مبتلا ہے وہیں افریقی ملک بوٹسوانا میں ہر پانچواں فرد اس HIV وائرس کا شکارہے اور 15 سے 49 انچاس سال کے درمیان کا ہر چوتھا شخص ایڈز میں مبتلا ہے۔ دنیا بھر میں اس مرض کی روک تھام کے لئے ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ معروف شخصیات بھی حصہ لیتی رہتی ہیں۔ فرانس کی خاتون اول کارلا برونی ہوں یا مشہور جرمن فٹ بالر میشائیل بالاک ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی ایڈز کے خلاف جاری جدوجہد میں حوصلہ نہ ہارنے کا پیغام دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایڈز کے خلاف جدوجہد ترک کر دی گئی تو اس سے یہ وائرس مزید پھیل جائے گا اوراس طرح اس مرض کی روک تھام پر آنے والے اخراجات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

Welt-Aids-Tag in Pakistan

ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے مظاہرے کا منظر


جہاں دنیا بھر اور خاص طور پر افریقہ میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے وہیں یوگینڈا ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں Hiv وائرس سے متاثر ہونے والوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ وہاں حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے ایڈز کے مریضوں کے ساتھ ساتھ عام افراد کے بھی متواتر ٹیسٹ لئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد 96 ہزارتا ایک لاکھ 50 ہزار ہے جن میں 27 ہزارخواتین ہیں۔ یہاں اس مرض سے متاثرہ افراد کی زیادہ تعداد ہم جنس پرست مردوں، جسم فروش خواتین اور نشہ کرنے والوں کی ہے۔مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ایڈز پر قابو پانے کے حوالے سے پیش رفت تو ہوئی تاہم اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا جبکہ عوام الناس میں ایڈز کی آگاہی میں کمی آئی۔