1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

SPD نے انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کا چانسلر بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ پارلیمانی انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD کی کارکردگی شٹائن مائر کی قیادت میں غیر متاثر کن ہی نہیں بلکہ اب تک کی ابتر ترین ہے۔

default

’’ووٹروں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور یہ انتخابی نتائج جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹس کے لئے ایک کڑوی گولی ہے۔‘‘

ابتدائی انتخابی نتائج کے منظر عام آنے کے محض تیس منٹ بعد ہی چانسلر کے عہدے کے امیدوار شٹائن مائر نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو بتایا:’’ووٹروں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اور یہ انتخابی نتائج جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹس کے لئے ایک کڑوی گولی ہے۔‘‘

شٹائن مائر نے کہا کہ انتخابی نتائج ان کی اور پارٹی کی توقعات کے برخلاف ہیں۔’یہ ہمارے لئے انتہائی عبرتناک شکست ہے۔ اس ہار سے انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور میں اس کے لئے اپنے حصّے کی ذمہ داری سے فرار نہیں ہوں گا۔‘‘

اس شکست کا سوشل ڈیموکریٹس کے لئے کیا مطلب ہے؟

چار سال تک چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی سربراہی میں سن 2005ء سے وسیع مخلوط حکومت کا حصّہ رہنے والی جماعت SPD کو اب اپوزیشن کا کردار نبھانا ہوگا۔ گزشتہ چار برسوں سے وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہنے والے شٹائن مائر اب پارلیمان کے ایوان زیریں میں بحیثیت ایک اپوزیشن لیڈر دیکھے جائیں گے۔

الیکشن نتائج کے مطابق شٹائن مائر کی جماعت SPD کو پارلیمانی انتخابات میں محض 23 فی صد ووٹ ہی ملے جو کہ سن 2005 ءکے الیکشن کے مقابلے میں کم از کم 11 فی صد کم ہیں۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین فرانس میونٹیفیرنگ نے شکست کے باوجود دارالحکومت برلن میں اپنے حامیوں کو دلاسہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ہم کوئی کل کی جماعت نہیں ہے۔‘‘

انتخابات میں اس شکست کے ساتھ ہی SPD میں لیڈرشپ کے مسئلے پر ایک بار پھر سے بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طرف 69 سالہ پارٹی چیئرمین فرانس میونٹیفیرنگ کے مستعفی ہونے کے مطالبے سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ دوسری جانب کئی حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے جب نوجوان سیاست دانوں کو پارٹی قیادت سنبھال لینی چاہیے۔

سوشل ڈیموکریٹس کی شکست کی ایک بڑی وجہ:

بعض جرمن سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں پچھلے چار سال کے دوران مخلوط جرمن حکومت نے چانسلر انگیلا میرکل کی سربراہی میں جو بھی اچھے کام کئے ان کا کریڈٹ میرکل اور CDU کو ملا جبکہ جو کام اچھے نہیں سمجھے گئے ان کے لئے SPD کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

رپورٹ : گوہر نذیر گیلانی

ادارت : عابد حسین