1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

Scoliosis کی بیماری دل اور پھپھڑوں کو ناکارہ بھی بنا سکتی ہے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ Scoliosis یا ریڑھ کی خمیدگی خاص کر پہلو کی طرف اس کے جھکاؤ کی بیماری بچوں کی جسمانی ساخت اور ان کے بیٹھنے اور چلنے کی غیر معمولی علامات سے ظاہر ہوتی ہیں۔

default

جن بچوں کی جسمانی ساخت میں کوئی نقص دکھائی دیتا ہو یا ان کے اٹھنے بیٹھنے اور چلنے کا طریقہ نارمل بچوں سے مختلف نظر آئے، اُن کے والدین کو چاہئے کہ وہ فوراً بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکڑ یا Paediatrician سے رجوع کریں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علامات Scoliosis یا ریڑھ کی خمیدگی خاص کر پہلو کی طرف اس کے جھکاؤ کی ہوتی ہیں۔ طبی اصطلاح میں اسے Spine Curvature Abnormality یا ریڑھ کی ہڈی کا غیر معمولی جھکاؤ یا خم کہا جاتا ہے۔ اس کی علامات میں سیدھے نہ کھڑے ہونا، سر کا کسی ایک طرف جھکاؤ، دونوں کندھوں کی اونچائی میں فرق یا پھر ایک طرف کی پسلیوں کا دوسری طرف کی پسلیوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں نظر آنا شامل ہیں۔ اس بارے میں جرمنی کیChildren's and young people's Physicians Association سے منسلک ماہرین نے نئی تحقیق کی ہے۔

Flash-Galerie Rollstuhl

ریڑھ کی ہڈی کا نقص اکثر اپاہج بنا دیتا ہے

ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے بچوں کو تھوڑے عرصے تک فزیشنز کی نگرانی میں رکھا جانا چاہئے، جن کی نشست و چال کے انداز دیگر بچوں کے مقابلے میں مختلف نظر آتے ہیں۔ اس کا مقصد کچھ عرصے تک محض یہ اندازہ لگانا ہے کہ آیا Scoliosis کے شکار بچے کی ریڑھ کی خمیدگی میں مزید خرابی پیدا ہو رہی ہے یا نہیں؟ جرمنی کیChildren's and young people's Physicians Association کے ایگزیکٹو بورڈ کے ممبر Hans-Juergen Nentwich کہتے ہیں کہ ایسے بہت سے بچوں کو مستقل بنیادوں پر مالش اور ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان بچوں کی ریڑھ کے خم کے زاویے میں مزید نقص پایا جائے تو اکثر کو ٫بریس‘ یا بکسوئے جیسی چیز پہنانی پڑتی ہے۔ اکثر کیسز میں سرجری یا جراحی کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڑھ کی خمیدگی سے متعلق عارضہ Scoliosis زیادہ بگڑ جائے تو یہ دل اور پھپھڑوں کو ناکارہ بھی بنا سکتی ہے۔

Masern Impfung bei Kindern

بچوں کا پابندی سے ماہر اطفال سے معائنہ کرواتے رہنا ضروری ہے

Scoliosis کے شکار بچے نہایت حساس ہوتے ہیں۔ انہیں اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ بدنما یا بد زیب نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسے بچے جذباتی طور پر شدید دباؤ اور انتشار کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے کیسز میں سرجری یا جراحی میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے۔ جرمن ماہر Hans-juergen Nentwich کے مطابق ایسے بچوں کی سرجری میں جس قدر تاخیر کی جائے گی، کیس اتنا ہی پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا اور کامیابی کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی پشت، خاص طور سے ریڑھ کی خمیدگی پر نظر رکھیں اور اگر انہیں کسی بچے کے اٹھنے بیٹھنے، جھکنے اور سیدھا کھڑے ہونے میں کسی قسم کی غیر معمولی حرکت دکھائی دے تو Scoliosis کا معائنہ کروائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کی ریڑھ کے جھکاؤ یا خم کا زاویہ دائیں یا بائیں طرف ہونے کا عارضہ 10 سے 12 سال کی عمر کے درمیان جنم لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری میں لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں مبتلا ہوتی ہیں۔ یہی وہ عمر ہے، جس میں بچوں کا روٹین چیک اپ یا برابر معائنہ کرواتے رہنا چاہئے۔ اس سے بچے کے اندر پائی جانے والی ان بیماریوں اور جسمانی یا ذہنی نقائص کا پتہ چل جاتا ہے، جن کا احساس اکثر والدین کو نہیں ہو پاتا-

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس