1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

P.E.N. کانگریس میں امریکہ اور برطانیہ پر شدید تنقید

منگل 23 مئی سے جرمن دارالحکومت برلن میں ادیبوں کی بین الاقوامی تنظیم PEN کی 72 وِیں عالمی کانگریس کا آغاز ہوا ہے، جو اتوار تک جاری رہے گی۔ اِس میں 80 ملکوں کے تقریباً 450 ادیب شرکت کر رہے ہیں۔

برلن منعقدہ کانگریس میں شریک جرمن ادیب Günter Grass اور جرمن صدر Horst Köhler

برلن منعقدہ کانگریس میں شریک جرمن ادیب Günter Grass اور جرمن صدر Horst Köhler

ادیبوں کی بین الاقوامی تنظیم PEN کی یہ کانگریس، جس میں کئی نوبیل انعام یافتہ ادیب بھی شریک ہیں، بیس سال کے بعد پھر سے جرمنی میں منعقد ہو رہی ہے۔ Writing in a World without Peace، اِس 72 وِیں کانگریس کے مرکزی موضوع کا تعلق اِس بات سے ہے کہ امن کی مُتلاشی دُنیا میں ایک ادیب کیسے اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے دُنیا میں امن قائم ہونے کی جو اُمید پیدا ہوئی تھی، وہ محض فریبِ نظر ثابت ہوئی ہے، جیسا کہ تنظیم PEN کی جرمن شاخ کے صدر Johano Strasser نے اپنے خطاب میں کہا۔ Stasser نے کہا: ”بڑھتی ہوئی حیرت اور تشویش کے ساتھ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سولہویں اور سترہویں صدی میں یورپ میں چھڑنے والی مذہبی جنگیں محض ماضی کا قصہ بن کر نہیں رہ گئیں بلکہ آج بھی اسلام، مسیحیت، یہودیت اور ہندو مَت کے کٹر پیروکار ایک بار پھر ایسی مقدس جنگوں کی بات کر رہے ہیں، جن میں وہ طاقت کے زور پر دُنیا کو تمام کافروں سے پاک کر دینا چاہتے ہیں۔“

جرمنی کے نوبیل انعام یافتہ ادیب گنتھر گراس نے اپنے خطاب میں امریکہ اور برطانیہ پر منافقانہ طرزِ عمل کا الزام عاید کیا اور کہا کہ اپنے اقدامات سے یہ دونوں ممالک اُلٹا دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ امریکی پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گراس نے کہا کہ سیاست اِس سے زیادہ احمقانہ اور زیادہ خطرناک ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن یہ کہ ساری دُنیا مجرمانہ چُپ سادھے ہوئے ہے اور گویا بے بس بن چکی ہے۔

گراس نے گذشتہ سال نوبیل انعام حاصل کرنے والے اور اپنے مَوقِف کے لئے شدید تنقید کا نشانہ بننے والے برطانوی ادیب Harold Pinter کا بھرپور دفاع کیا اور اُن کی تقریر کے وہ اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے، جن میں یہ کہا گیا تھا کہ امریکہ کے جرائم منصوبہ بندی کے ساتھ، مستقل طور پر، نفرت انگیز طریقے سے اور بے رحمانہ انداز میں کئے گئے لیکن یہ کہ کوئی اُن کے بارے میں بات بھی نہیں کرتا۔

سرد جنگ کے بعد کے سیاسی حالات کا انپے مخصوص انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے 78 سالہ گنتھر گراس نے تالیوں کی گونج میں کہا: ”آج کل ہم ایک ایسی واحد بڑی طاقت کے حد سے زیادہ بڑھے ہوئے جوش و خروش کے آگے بے بس ہو چکے ہیں، جو ایک نئے دشمن کی تلاش میں گویا بالآخر کامیاب ہو چکی ہے۔ اور اب ہتھیاروں کی طاقت کےساتھ اُس بن لادن اور اُس دہشت گردی کو شکست دینا چاہتی ہے، جس کی اُس نے خود ہی آبیاری بھی کی تھی۔ اِس واحد بڑی طاقت کی وہ جنگ، جو مہذب دُنیا کے تمام تر قوانین کو پامال کرتے ہوئے لڑی جا رہی ہے ، اُلٹا دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے اور ختم نہیں ہو سکتی۔“

وفاقی جرمن صدر ہورسٹ کوہلر نے اِس کانگریس کے افتتاح کے موقع پر لفظ اور ثقافت کی آزادی کے خلاف عالمگیر جدوجہد کےلئے زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ دُنیا میں بہت سے مقامات پر اور بالخصوص افریقہ میں ادیبوں اور صحافیوں کو سنسر اور تشدد حتیٰ کہ قتل تک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ تنظیم 1921ء میں لندن میں قائم ہوئی تھی اور اِس کی یہ بین الاقوامی کانگریس 1926ء اور 1986ء کے بعد تیسری مرتبہ جرمنی میں منعقد ہو رہی ہے۔