1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

NRO کےخاتمے کے بعد، کئی مقدمے پھر کھل گئے

سپریم کورٹ کی جانب سے قومی مصالحتی آرڈیننس این آر او کو کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد ملک بھر کی احتساب عدالتوں نے بدعنوانیوں کے مقدمات کو بحال کر کے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے

default

وفاقی وزیر داخلہ کے گرفتاری کے وارنٹ منسوخ کر کے انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لئے سمن جاری کئے گئے ہیں

جمعہ کے روز کراچی کی ایک احتساب عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے ایک مقدمہ میں مفروری کی وجہ سے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں ۔لیکن دوسری جانب فوری طور پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل سابق جج خواجہ نوید احمد نے عدالت میں درخواست دی کہ انکے موکل کو پہلے سمن جاری کیا جائے اور اگر وہ عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری کئے جاسکتے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج نے رحمان ملک کے وکیل کی درخواست کے بعد وارنٹ منسوخ کر کے رحمان ملک کو 8 جنوری 2010ء کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ رات وفاقی وزیر دفاع چوہدری احمد مختار کو ایک دفاعی معاہدے کے لئے چین کا دورہ صرف اس لئے منسوخ کرنا پڑا کہ ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام نے این آر او کے تحت مقدمات کی بحالی کے بعد ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل ہونے کی وجہ سے انہیں سفر کی اجازت نہیں دی۔ اب وزیر دفاع اپنے مقدمہ کا دفاع کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال میں این آر او کے کالعدم قرار ہونے اور صدر زرداری کی ٹیم کے اہم وزراء کے مقدمات دوبارہ کھلنے کے بعد معاملات خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے وابستہ پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال صدر زرداری کا امتحان ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ سو فیصد احتساب کویقینی بنائیں۔ دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو صرف زرداری اور ان کے ساتھیوں، بیوروکریٹس کے احتساب کے ساتھ ساتھ ان فوجی جنرلز کا بھی احتساب کرنا چاہیے، جنہوں نے دفاعی سودوں میں بھاری کمیشن وصول کئے۔

رپورٹ : رفعت سعید، کراچی

ادارت : امجد علی