1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’’ Life in a Day‘‘ یوٹیوب کے صارفین کی پہلی فلم

امریکی ریاست اوتھا میں ’سن ڈینس‘ فلم فیسٹول جاری ہے۔ اس فیسٹول یو ٹیوب پر موجود ویڈیوز سے بنائی جانے والی فلم میں پیش کی گئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس نوعیت کی کوئی فلم کسی فیسٹول میں پیش کی گئی ہے۔

default

گزشتہ کئی برسوں سے انٹرنیٹ پر ویڈیوز کے حوالے سے دنیا کی معروف ترین ویب سائٹ یوٹیوب ہر طبقے کی توجہ اپنی طرف راغب کیے ہوئے ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ماہرین ایک طویل عرصے سے اس فکر میں لگے ہوئے تھے کہ آخر یوٹیوب پر موجود دو اور تین منٹ کے دورانیے کی ویڈیوز کو کس طرح ایک فلم کی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ آخرکار وہ یہ کارنامہ سر انجام دینے میں کامیاب ہوگئے، جس کا مظاہرہ سن ڈینس فلم فیسٹول میں شائقین اور ماہرین نے دیکھا۔

یوٹیوب کے صارفین کی ویڈیز پر مبنی فلم کا نام ہے Life in a Day’ لائف ان آ ڈے‘۔ یوٹیوب اور فلم پرڈیوسر لیزا مارشل کے اس منصوبے کو آسکر ایوارڈ یافتہ کیون میکڈونلڈز نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس کا آئیڈیا جتنا آسان تھا اسے عملی شکل دینا اتنا ہی مشکل۔ اس سلسلے میں یوٹیوب کے صارفین کوکہا گیا تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں24 جولائی 2010ء کے پورے دن کی ویڈیو بنائیں۔ پھر اپنی زندگی کی ایک دن کی یہ ویڈیو یوٹیوب کو روانہ کریں۔ ان ویڈیوز کو دیکھ کر ان میں سے چند منتخب کی گئیں اور پھر 90 منٹ کی ایک فلم کی شکل دی گئی۔

Screenshot Film Ivanky Flash-Galerie

اس فلم کے لئے دنیا بھر سے یو ٹیوب صارفین نے ویڈیوز اپ لوڈ کیں

میکڈونلڈ نے بتایا کہ ابتداء میں اسے فلم کے حوالے سے تھوڑا بہت خوف بھی تھا’ ہم نےاسے تجربےکا نام دیا تھا کیونکہ تجربے ناکام بھی ہوتے ہیں۔ پھرجب یہ اندازہ ہوا کہ اس منصوبے میں پیش رفت ہو رہی ہےتو ہم نےاسے تجربے کے بجائے فلم کی تیاری کا نام دے دیا ‘‘۔ فلم سازوں کو دس ہزار گھنٹوں کی امید تھی لیکن انہیں80 ہزارگھنٹوں کی ویڈیوز موصول ہوئیں۔ یعنی دنیا کے 192ممالک سے 4500 ویڈیوز۔

ان میں نوجوان فلم سازوں اور نجی طورپر بنائی جانے فلمیں شامل تھیں۔ جنوبی کوریا کے ایک باشندےکی وہ ویڈیو بھی شامل تھی،جس میں وہ سائیکل پر دنیا کا سفر کرنا چاہتا ہے۔ ایک جاپانی والد نے اپنی ویڈیو میں یہ دکھایا کہ وہ اکیلا کس طرح کینسر میں مبتلا اپنے بیٹے کی تیمارداری کر رہا ہے۔ ایک بھارتی باغبان، پیرو کے ایک نوجوان موچی اور ایک امریکی کی وہ ویڈیو بھی شامل ہے، جب پہلی ڈیٹ میں اسے لڑکی نے ٹھکرا دیا تھا۔

کیون میکڈونلڈ کا کہنا ہےکہ زیادہ ایسے ویڈیز موصول ہوئی ہیں، جن میں خوشی کا عنصر نمایاں تھا۔ تاہم اس روز افسوس ناک واقعات بھی رونما ہوئے، جیسا کہ جرمنی میں ’لوپریڈ‘ میں بھگڈر مچنے کا واقعہ، جس میں انیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔کیون میکڈونلڈ کے بقول’ لائف ان آ ڈے‘ 24 جولائی2011ء کو ریلیز کر دی جائے گی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس