1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ISI، جنرل پاشا کے خلاف امریکی مقدمات کا جواب دینے کا اعلان

پاکستانی حکومت کے مطابق ملکی فوجی خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کے خلاف 2008 میں ممبئی حملوں کے سلسلے میں امریکہ میں درج دو مقدمات کا قانونی سطح پر حکومت کی طرف سے باقاعدہ جواب دیا جائے گا۔

default

ممبئی حملوں کےدوران تاج محل ہوٹل کی عمارت سے نکلتا ہوا دھواں،فائل فوٹو

ایک امریکی عدالت میں دائر کئے گئے ان دونوں مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممبئی میں دو سال قبل 166 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے دہشت گردانہ حملوں میں مبینہ طور پر پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس ISI اور اس کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا بھی ملوث تھے۔

اسلام آباد سے مختلف خبر رساں اداروں نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ اس بارے میں جمعرات کے روز ملکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ حریف ہمسایہ ریاست بھارت میں 2008ء کی دہشت گردی کے سلسلے میں ملک کے اہم ترین خفیہ ادارے اور اس کے سربراہ پر لگائے جانے والے عدالتی الزامات کے بارے میں پاکستان میں کس حساسیت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

Pakistan Geheimdienst ISI

جنرل شجاع پاشاکی پاکستانی وزیر اعظم گیلانی کے ساتھ ملاقات، فائل فوٹو

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جنرل پاشا پر لگائے گئے الزامات کے سلسلے میں ان کا عدالتی سطح پر ’’مناسب انداز میں اور مکمل طور پر‘‘ دفاع کرے گا۔

اس بارے میں پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی شہر نیویارک میں دائر کئے گئے ان سول مقدمات میں گواہی کے لئے جنرل پاشا یا آئی ایس آئی کے کسی بھی اہلکار کو امریکہ نہیں بھیجا جائے گا بلکہ اسلام آباد حکومت کی خواہش اور کوشش ہو گی کہ یہ مقدمات خارج کر دئے جائیں۔

ان مقدمات کی مدعی شخصیات میں ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے لواحقین بھی شامل ہیں اور انہوں نے عدالت سے درخواست کر رکھی ہے کہ ان کی مالی تلافی کی جائے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے خیال میں ایسے مقدمات کی حیثیت اکثر علامتی ہوتی ہے، جو زیادہ تر کامیاب نہیں ہوتے اور جن شخصیات کو ایسے مقدمات میں اپنا دفاع کرنا ہوتا ہے، وہ یا تو ایسی عدالتی کارروائیوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتے یا پھر اپنے لئے قانونی مامونیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس