1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

IAEA گورننگ بورڈ کی سربراہی: پاکستان امیدوار

اس بات کا امکان ہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے گورننگ بورڈ کی چیئرمین شپ اگلے ہفتے کے دوران شروع ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو تفویض ہو سکتی ہے۔ IAEA کے گورننگ بورڈ کا اجلاس تیرہ ستمبر سے شروع ہو گا۔

default

پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے لیکن اس نے ابھی تک ’جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے یہ منصب مشرق بعید کے ملک ملائشیا کے پاس تھا۔ گورننگ بورڈ کی صدارت کسی بھی رکن ملک کو ایک سال کے لئے دی جاتی ہے۔

دنیا میں جوہری معاملات کا نگران اصل میں اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ IAEA ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں بنیادی پالیسی سازی کا اختیار بورڈ آف گورنر کے پاس ہوتا ہے اور اس تناظر میں گورننگ بورڈ کی سربراہی ایک اعزازی منصب تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ عہدہ ادارے کی بنیادی پالیسی میں کسی تبدیلی، کمی یا اضافے نہیں کر سکتا۔

پاکستان کئی برسوں سے اس ادارے کا رکن چلا آ رہا ہے تاہم بعض مغربی سفارتکاروں کا خیال ہے کہ گورننگ بورڈ کے لئے یہ کوئی مناسب انتخاب نہیں ہو گا کیونکہ سن 1970ء میں عمل میں لائی جانے والی NPT کے اسرائیل، بھارت ، شمالی کوریا اور پاکستان دستخط کنندہ نہیں ہیں اور عالمی ادارے کا حقیقت میں قلب یہی NPT ہے۔ عالمی طاقتیں کئی مرتبہ ان ملکوں سے اپیل کر چکی ہیں کہ وہ NPT پر دستخط کر کے جوہری عدم پھیلاؤ میں معاونت کریں۔

Pakistan Atom Rakete Parade in Islamabad

پاکستان نےابھی تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں

انہی سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اس صورت حال کے باوجود گورننگ بورڈ کی لیڈر شپ کے لئے پاکستان کی مخالفت سردست مغربی ملکوں کی جانب سے نہیں ہو گی۔ جرمن انسٹیٹیوٹ برائے انٹرنیشنل اور سکیورٹی افیئرز کے سینئر رکن اولیفر تھرینیرٹ کا خیال ہے کہ پاکستان ایک سپیشل کیس ہے اور گورننگ بورڈ کی سربراہی ملنے کے بعد پاکستان کے بطور جوہری ملک رویے اور جوہری معاملات پر احساس ذمہ داری بڑھ جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے رکن ممالک کی تعداد پینتیس ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے گورننگ بورڈ کا دو ہفتے جاری رہنے والا اجلاس تیرہ ستمبر سے شروع ہو گا۔ اسی اجلاس میں انتظامی بورڈ کی سربراہی کا معاملہ طے کیا جائے گا۔ ایشیائی ملکوں کی جانب سے بھی پاکستان کو تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مغربی ملکوں کی جانب سے مخالفت نہ آئے اور ایشیائی گروپ کی حمایت سے پاکستان کو یہ اعزازی اعزاز مل جائے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس