1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

G8 لیبیا میں فوجی مداخلت کا قائل نہیں ہو سکا: فرانس

فرانسیسی وزیر خارجہ نے آج منگل کو گروپ جی ایٹ کے وُزرائے خارجہ کے پیرس میں جاری دو روزہ اجلاس کے دوسرے اور آخری روز کہا کہ اِس گروپ کے رکن ممالک کے درمیان لیبیا میں فوجی مداخلت کے حوالے سے اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔

default

فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے

گروپ جی ایٹ کے رکن ممالک کے وُزرائے خارجہ کے درمیان لیبیا کے باغیوں کی مدد کے لیے وہاں کی فضاؤں میں نو فلائی زون کے قیام کے موضوع پر تبادلہء خیال گزشتہ شام سے جاری ہے۔ اِس حوالے سے ریڈیو یورپ وَن سے باتیں کرتے ہوئے وزیر خارجہ الاں ژوپے نے کہا:’’ابھی مَیں اُنہیں قائل نہیں کر سکا ہوں۔‘‘

جی ایٹ کا موجودہ صدر ملک اور اِس اجلاس کا میزبان فرانس لیبیا میں فوجی مداخلت پر زور دے رہا ہے، جہاں معمر قذافی کے وفادار فوجی دَستے اب بالخصوص فضائی طاقت استعمال کرتے ہوئے بتدریج اُن شہروں پر پھر سے کنٹرول حاصل کر رہے ہیں، جن پر گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے جاری بغاوت کے دوران حکومت مخالفین نے قبضہ کر لیا تھا۔

گزشتہ رات پیرس میں عشائیے کے بعد جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا کہ ابھی لیبیا میں فوجی مداخلت کے موضوع پر مزید گفت و شُنید کی ضرورت ہے۔ ویسٹر ویلے نے کہا کہ جرمن حکومت لیبیا میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے البتہ لیبیا کے خلاف زیادہ سخت سیاسی پابندیوں کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مزید بات چیت کے لیے تیار ہے۔

یورپی یونین اور امریکہ معمر قذافی پر اقتدار چھوڑ دینے کے لیے زور دے رہے ہیں البتہ ابھی وہاں فوجی مداخلت سے ہچکچا رہے ہیں۔ اگرچہ فرانس نے مشرقی لیبیا میں باغیوں کی جانب سے قائم کی گئی قومی کونسل کو لیبیا کے عوام کا واحد جائز نمائندہ ادارہ تسلیم کر لیا ہے تاہم یورپی یونین اور امریکہ نے ابھی اِس حد تک جانے سے بھی گریز کیا ہے۔

Deutschland Westerwelle zu Lage in Libyen und Japan

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے

سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین کے درمیان نو فلائی زون کے قیام پر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔ فرانس اور برطانیہ لیبیا کی فضاؤں میں نو فلائی زون کے قیام کے حق میں ہیں اور اُن کے اِس موقف کی تائید گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر عرب لیگ نے بھی کر دی تھی۔ روس اور چین ایسے کسی اقدام کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں جبکہ امریکہ ابھی تک تذبذب کی حالت میں ہے۔

تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ معمر قذافی کے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے دستوں نے باغیوں کو اجدابیا سے بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں شہری اور باغی اجدابیا سے فرار ہو کر مشرقی لیبیا میں باغیوں کے ہیڈ کوارٹر بن غازی پہنچ رہے ہیں۔

بن غازی کو جانے والی شاہراہ پر اجدابیا باغیوں کا آخری بڑا ٹھکانہ تھا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ قذافی کے دستوں کے حملوں کی زَد میں آنے سے بچنے کے لیے لیبیا کے بہت سے شہری ہمسایہ مصر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس