1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

DNA مالیکیولز اور جدید ترین مائیکروچپس

کمپیوٹر تیار کرنے والا معروف امریکی ادارہ انٹرنیشنل بزنس مشینز IBM انسانی جسم کی تشکیل کے بنیادی بلاک یعنی DNA کے مالیکیولز کو استعمال کرتے ہوئے بہت جدید طرز کے مائیکروچپس کی تیاری پر تجربات کررہا ہے۔

default

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف مائیکرو چپس کا سائز مزید چھوٹا ہوجائے گا بلکہ ان کی تیاری پر اٹھنے والی لاگت میں بھی خاطر خواہ کمی آجائے گی۔ مائیکرو چپس کمپیوٹرز کے علاوہ، موبائل فونز اور دیگر بہت سے الیکٹرونک آلات کا بھی لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے دنیا بھر کے مائیکروچپس تیار کرنے والے اہم اداروں کے درمیان چھوٹے سے چھوٹے مگر اپنی کارکردگی کے حوالے سے تیز ترین چپس کی تیاری کے لئے مقابلہ ایک مسلسل عمل ہے۔

جرنل آف نیچر نینوٹیکنالوجی میں چھپنے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق DNA کے مصنوعی نینوسٹرکچرز جنہیں DNA Origami کا نام بھی دیا جاتا ہے، کم لاگت اور موجودہ مائیکروچپس کے مقابلے میں، اپنے سائز میں بہت ہی چھوٹے لیکن انتہائی تیز رفتار چپس کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق IBM کے Almaden ریسرچ سنٹر اور کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں کی مشترکہ کاوش ہے۔

Junge Forscher

مائیکروچپ تیار کرنے والے امریکی ادارے AMD کا جرمن شہر ڈریسڈن میں قائم پیداواری یونٹ

IBM کے ریسرچ مینیجر Spike Narayan کا کہنا ہے کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں حیاتیاتی مالیکیولز کے استعمال کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ نارائن کے مطابق اس تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ DNA جیسے مالیکیولر ڈھانچے دراصل سیمی کنڈکٹر پروسیس کے لئے بہت ہی کارآمد سانچے یا Patterns فراہم کرتے ہیں۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مائیکرو چپس جتنے چھوٹے ہوتے ہیں، انہیں تیار کرنے والا نظام اتنا ہی زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ لہٰذا مائیکروچپس کی قیمت بھی اسی تناسب سے زیادہ ہوتی ہے۔ نارائن کے مطابق اگر DNA اوریگامی کا طریقہ بڑے پیمانے پر مائیکرو چپس کی تیاری کے لئے استعمال ہونے لگا تو آج مائیکروچپس تیار کرنے والے جس نظام کی صنعتی تیاری پر کئی سو ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اسکی لاگت ایک ملین ڈالر سے بھی کم رہ جائے گی۔

تاہم ماہرین کے مطابق DNA Origami کے ذریعے صنعتی پیمانے پر مائیکرو چپس کی تیاری کے مرحلے تک پہنچنے کے لئے ابھی کم از کم مزید دس سال درکار ہوں گے۔ IBM کے ریسرچ مینیجر کے بقول ابتدائی تجربات کے باوجود DNA Origami کو موجودہ مائیکروچپس کے مقابلے میں، بہت ہی چھوٹے سائز کے جدید ترین چپس کی تجارتی بنیادوں پر تیاری کے لئے ابھی مزید بہت زیادہ تجربات اور تحقیق کی ضرورت ہے جس میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک