1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

CIA کو بن لادن کی رہائش گاہ جانچنے کی اجازت

جمعرات 26 مئی کو امریکی جریدے ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے خبر دی کہ پاکستان نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک فورنسک ٹیم کو ایبٹ آباد میں اُس مکان کی مکمل جانچ پڑتال کی اجازت دے دی ہے، جہاں 2 مئی کو اُسے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

default

اسامہ کی ہلاکت والا مکان

جریدے نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سی آئی اے کی یہ ٹیم اگلے چند روز کے اندر اندر ایبٹ آباد پہنچ جائے گی تاکہ اُسامہ بن لادن اور اُس کے اہلِ خانہ کے استعمال میں رہنے والی اس عمارت کو مکمل طور پر اور ہر اعتبار سے کھنگال سکے۔

ایک امریکی عہدیدار نے، جس کا نام نہیں ظاہر کیا گیا، ’واشنگٹن پوسٹ کو بتایا:’’امریکی نیوی کمانڈوز اپنی کارروائی کے لیے صرف چالیس منٹ وہاں موجود رہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر وہاں جایا جائے اور پوری تسلی کے ساتھ ہر چیز کو دیکھا اور پرکھا جائے۔‘‘

سی آئی اے اِس خصوصی تلاشی اور جانچ پڑتال کے دوران انفرا ریڈ کیمرے اور ایسے دیگر خصوصی آلات استعمال کرے گی، جو ممکنہ طور پر دیواروں کے اندر، پیچھے یا زیر زمین چھپائے گئے مواد کا بھی سراغ لگا سکیں گے۔ ابھی تک سی آئی اے کی جانب سے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی اس خبر پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

Osama bin Laden Reaktion Pakistan

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبر ٹیلی وژن چینلز پر نشر کی جا رہی ہے

جریدے نے لکھا ہے کہ سی آئی اے کی ٹیم کے اس خصوصی دورے کی تفصیلات سی آئی اے کے نائب ڈائریکٹر مائیکل موریل نے گزشتہ ہفتے انپے دورہ پاکستان کے دوران طے کیں، جب اُنہوں نے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

2 مئی کے واقعے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خاصی سرد مہری پیدا ہو چکی ہے تاہم سی آئی اے کی ٹیم کو ایبٹ آباد جانے کی اجازت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات ایک بار پھر تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

سی آئی اے کے عہدیدار نے امریکی جریدے کو یہ بھی بتایا کہ امریکی خفیہ ادارے کو اُس سارے مواد تک بھی رسائی دی جائے گی، جو پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اس کمپاؤنڈ سے اکٹھا کیا ہے۔ اسی طرح آئی ایس آئی سے اُس مواد کو جانچنے میں بھی مدد لی جائے گی، جو امریکیوں نے دو مئی کو اپنے آپریشن کے دوران اِس عمارت سے جمع کیا تھا۔ اس مواد میں مختلف افراد اور مقامات کے نام بھی شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس عمارت سے کمپیوٹر فائلز اور نوٹ بُکس کی شکل میں اتنا زیادہ انٹیلیجنس مواد اکٹھا کیا گیا ہے، جتنا کہ امریکہ نے اب تک کبھی بھی کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے قبضے سے حاصل نہیں کیا تھا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس