1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

CDU اور FDP جیت کے بعد

جرمن عوام نے دوسری مدت کے لئے بھی پچپن سالہ چانسلر انگیلا میرکل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اور ان کے اتحادیوں کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔

default

چانسلرانگیلا میرکل کو نئی مخلوط حکومت کے قیام کے لئے سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD کی حمایت درکار نہیں ہے

ستائیس ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں انگیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین CDU اور اس کی سسٹر پارٹی کرسچن سوشلسٹ یونین CSU کو تقریباً 34 فی صد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ آزاد تجارت کی حامی ’فری ڈیموکریٹک پارٹی‘ FDP کو حیران کن طور پر تقریباً 15 فی صد ووٹ ملے ہیں۔

اب چانسلرانگیلا میرکل کو نئی مخلوط حکومت کے قیام کے لئے سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD کی حمایت درکار نہیں ہے۔ انگیلا میرکل نے الیکشن میں اپنی کامیابی پر جرمن ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’’ان پارلیمانی انتخابات میں ہماری شاندار اور زبردست کارکردگی رہی، ہمارا ٹارگٹ پورا ہوگیا۔ CDU، CSU اور FDP کے ساتھ ایک نئی سرکار، ایک نئی حکومت بنے گی اور یہ بہت ہی اچھا رہے گا۔‘‘

انگیلا میرکل نے ووٹرز سے ساتھ ہی کہا کہ وہ صرف CDU اور CSU کے حامیوں کی ہی نہیں بلکہ پورے جرمنی کی چانسلر ہیں۔

جرمنی کے 17ویں پارلیمانی انتخابات میں لبرل فری ڈیموکریٹک پارٹی نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ FDP کے سربراہ گیوڈو ویسٹر ویلے نے الیکشن نتائج پر اپنے اطمینان اور خوشی کا اظہار ان لفظوں میں کیا: ’’ہم ان غیر معمولی انتخابی نتائج پر بے حد خوش ہیں۔ لیکن ہم یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ مطلب ہے ذمہ داری سنبھالنا اور اسے نبھانا بھی، اور ہم یہ ذمہ داری نبھانے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ ہم حکومت سازی کے لئے بھی تیار ہیں۔‘‘

رپورٹ : گوہر نذیر

ادارت : عاطف توقیر