1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

Boric Tadic ایک مرتبہ پھر صدر منتخب

ماہرین کی پیشگوئی کے مطابق Boric Tadic ایک سخت مقابلے کے بعد سربیا کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

Boric Tadic

Boric Tadic

مشرقی یورپ کے ملک سربیا میں صدارتی انتخابات میں Boris Tadic ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کو 51 فی صد ووٹ ملے جبکہ ان کے مخالف Tomislav Nikolic کو 48 فی صد ووٹ ملے۔ سربیا کے الیکشن کمیشن نے ان نتائج کی تصدیق کر دی ہے۔ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد Tadic Boric کی کامیابی کے آثار کافی معدوم ہو گئے تھے ۔ ان نتائج کا سربیا کی خارجہ پالیسی پر گہرا اثر پڑے گا کیونکہ نو منتخب صدر مغرب نوازہیں اور وہ سربیا کو یورپی یونین کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ان کے مخالف انتہائی قدامت پسند ہیں اور وہ سربیا کے تعلقات روس کے ساتھ مذید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ایک بات جس پر دونوں متفق ہیں وہ ہے جنوبی صوبے کوسوو کی خود مختاری کا مسئلہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران اس مسئلے کو خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس بارے میں دونوں رہنماوں کا موقف ہے کہ وہ کوسووو کی آزادی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ صدر نے نتائج کے سامنے آنے کہ بعد کہا کہ ’ انہیں امید ہے کہ کوسوو خود مختاری کا اعلان نہیں کرے گا اگر ایسا ہوا تو خطے کا توازن بگڑ جائے گا اور مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ایسا نہ ہو‘

یورپی یونین کی کوشش ہے کہ کوسوو کو خود مختاری حاصل ہو جبکہ سربیا اور روس اس کے شدید مخالف ہیں۔ روس کا موقف ہے کہ اگر جنوبی صوبے کو آزادی دی گئی تو یہ علیحدگی مانگنے والوں کے لئے ایک بری مثال ہو گی۔ جبکہ امریکی صدر جارج بش پہلے ہی کوسوو کو قوام متحدہ کی طے شدہ منصوبے کے تحت آزادی دینے کی بات کر چکے ہیں۔