1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

AfD کی شریک سربراہ پارٹی چھوڑ دیں گی

حالیہ انتخابات کے نتیجے میں جرمن پارلیمان میں تیسری سب سے بڑی قوت بن جانے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ AfD کی شریک سربراہ فراؤکے پیٹری نے کہا ہے کہ وہ یہ پارٹی چھوڑ دیں گی۔

جرمنی کی انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی مہاجرین اور اسلام مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ نے اتوار 24 ستمبر کو ہونے والے وفاقی پارلیمانی انتخابات میں 12.6 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس طرح یہ جماعت جرمن پارلیمان میں تیسری سب سے مضبوط قوت بن گئی  ہے۔

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ کی شریک چیئر پرسن فراؤکے پیٹری نے اپنی سیاسی جماعت کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹری کے مطابق، ’’یہ بات واضح ہے کہ یہ قدم اٹھایا جائے گا۔‘‘ پیٹری کے اس فیصلے کو معتبر جریدے ڈیئر اشپیگل آن لائن سمیت دیگر جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔ تاہم پیٹری نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب اس فیصلے پر عمل کریں گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اے ایف ڈی کی جانب سے اس خبر پر ردعمل جاننے کے لیے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

فراؤکے پیٹری آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ کے نسبتاﹰ اعتدال پسند دھڑے کی سب سے اہم رہنما ہیں۔ وہ اے ایف ڈی کے پلیٹ فارم سے ہی جرمن صوبے سیکسنی سے الیکشن جیت کر رکن پارلیمان بھی منتخب ہوئی ہیں۔ تاہم انہوں نے پیر 25 ستمبر کو یہ اعلان کر کے اس جماعت کے رہنماؤں کو ششدر کر دیا تھا کہ وہ جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں ’’بُنڈس ٹاگ‘‘ میں AfD کے ساتھ نہیں بیٹھیں گی بلکہ بطور ایک آزاد امیدوار بیٹھنے کو ترجیح دیں گی۔

Berlin Nach der Bundestagswahl - AfD (picture-alliance/dpa/J. Stratenschulte)

فراؤکے پیٹری نے پیر کے روز یہ اعلان کر کے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو ششدر کر دیا تھا کہ وہ جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں ’’بُنڈس ٹاگ‘‘ میں AfD کے ساتھ نہیں بیٹھیں گی

جرمن انتخابات میں آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ کی کامیابی پر جرمنی کی دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہا رکیا گیا تھا۔ انتخابات سے دو روز  قبل جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD سے ہی تعلق رکھنے والے اور جرمنی کے وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے کہا تھا کہ  AfD کی سربراہی وہ لوگ کر رہے ہیں جو نفرت کو فروغ دیتے ہیں اور نازی پراپیگنڈا پھیلاتے ہیں: ’’دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ اصل نازی جرمن پارلیمنٹ میں جا بیٹھیں گے۔‘‘