1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

 98 فیصد شامی مہاجرین کی پناہ کی درخواستیں منظور

یورہی یونین کے دفترِ شماریات کے مطابق سن 2015 کے مقابلے میں 2016ء میں یورپی یونین کے رکن ممالک میں مہاجرین کی دگنی سے زیادہ تعداد کو پناہ دی گئی۔ پناہ حاصل کرنے والوں میں شامی تارکین وطن سرِ فہرست ہیں۔

Griechenland Ankunft Syrische Flüchtlinge (picture-alliance/AP Photo/P. Giannakouris)

یورپی یونین کے دفتر شماریات کے مطابق گزشتہ برس یورپی یونین کے ممالک میں پناہ حاصل کرنے والے تارکینِ وطن میں نصف سے زیادہ شامی مہاجرین تھے

یورپی یونین کے دفترِ شماریات ’یورو اسٹیٹ‘ نے بدھ کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سن 2016 میں سات لاکھ پناہ گزینوں کو یورپی بلاک کے مختلف ممالک میں پناہ دی گئی جبکہ سن 2015 میں پناہ حاصل کرنے والے تارکینِ وطن کی تعداد تین لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔

صرف جرمنی میں ہی پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد گزشتہ برس ساڑھے چار لاکھ کے قریب رہی، جو سن 2015 میں پناہ کی منظور شدہ درخواستوں کی تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔

دوسری جانب یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2015 کی نسبت گزشتہ برس یورپ کی طرف مہاجرت کرنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔

شماریات کے اس دفتر کے مطابق گزشتہ برس یورپی یونین کے ممالک میں پناہ حاصل کرنے والے تارکینِ وطن میں سے نصف سے زیادہ شامی مہاجرین تھے، جن کی تعداد چار لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

 یورو اسٹیٹ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہر دس میں سے ایک عراقی اور ایک افغانی مہاجر کی پناہ کی درخواستیں منظور کی گئیں، جو منظور شدہ کُل درخواستوں کا نو، نو فیصد بنتی ہیں۔ شامی مہاجرین کی جانب سے دائر کردہ پناہ کی 98 فیصد درخواستوں پر یورپی یونین ممالک کی جانب سے مثبت جواب دیا گیا۔

اریٹیریا اور پناہ کے متلاشی ’اسٹیٹ لیس‘ افراد کی درخواستیں بھی بالعموم منظور کی گئیں۔ یورو اسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیا اور بلقان خطے سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی پناہ کی درخواستیں زیادہ تر مسترد کی گئیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات